رشتوں کو وقت دوتاج محل دنیا نے دیکھا ہے، ممتاز نے نہیں

   

سید جلیل ازہر
یہ مختصر سا جملہ اپنے اندر محبت، قربت، احساس اور زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت سموئے ہوئے ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی آسائشوں، دولت، شہرت اور کامیابی کے حصول میں صرف کر دیتا ہے، مگر اکثر وہ لوگ جو اس کی زندگی کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں، ان کے لیے وقت نکالنا بھول جاتا ہے۔ ہم اپنوں کو یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ “ابھی بہت وقت ہے، بعد میں بیٹھیں گے، بعد میں بات کریں گے، بعد میں ملیں گے”، لیکن زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ کبھی کبھی وہ “بعد میں” آتا ہی نہیں۔ تاج محل ایک عمارت نہیں، ایک سبق ہے تاج محل کو دنیا محبت کی ایک عظیم علامت کے طور پر دیکھتی ہے۔ کسی ماں کے لیے مہنگا تحفہ خریدنے سے زیادہ قیمتی یہ ہے کہ اس کے پاس بیٹھ کر چند لمحے بات کر لی جائے۔کسی باپ کے لیے بڑی رقم خرچ کرنے سے زیادہ قیمتی یہ ہے کہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا جائے: “ابا! آپ کیسے ہیں؟” کسی شریکِ حیات کے لیے قیمتی زیور سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کی بات توجہ سے سنی جائے۔ بچوں کے لیے مہنگے کھلونوں اور جدید موبائل فون سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ والدین ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی بات سنیں، ان کے خواب جانیں اور انہیں یہ احساس دیں کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے اہم ہیں۔ وقت محبت کی سب سے بڑی زبان ہے آج کے دور میں انسان کے پاس تقریباً ہر چیز کے لیے وقت ہے، مگر اپنے رشتوں کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، کاروباری مصروفیات اور دنیاوی دوڑ نے انسان کو اپنے ہی گھر میں اجنبی بنا دیا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کبھی کبھی ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے موبائل کی اسکرین پر مصروف رہتے ہیں۔ دسترخوان ایک ہوتا ہے، مگر توجہ الگ الگ اسکرینوں پر ہوتی ہے۔ گھر ایک ہوتا ہے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رشتے صرف خون کے رشتے ہونے سے مضبوط نہیں رہتے؛ انہیں وقت، توجہ، احترام، اعتماد اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک خوبصورت شعر اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
رشتوں کی شاخ خشک نہ ہونے دو دوستو
لفظوں سے آب دو، انہیں احساس دو ذرا
ماں باپ کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو ماں ہماری ایک آواز پر دوڑ کر آتی ہے۔ ہماری بھوک اسے بے چین کرتی ہے، ہماری بیماری اسے رات بھر جگاتی ہے اور ہماری کامیابی اس کے چہرے پر خوشی بکھیر دیتی ہے۔ باپ اپنی خواہشات قربان کرکے بچوں کے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ وہ دھوپ میں جلتا ہے تاکہ بچے سایہ میں رہیں، اپنی ضرورتیں محدود کرتا ہے تاکہ بچوں کی ضروریات پوری ہوں۔ مگر وقت گزرتا ہے، بچے بڑے ہوجاتے ہیں، ملازمت، کاروبار اور اپنی زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ پھر وہی ماں اور باپ جو کبھی بچوں کے لیے ہر وقت حاضر رہتے تھے، ان کے پاس بیٹھنے کے لیے بچوں کے پاس وقت نہیں رہتا۔کیا یہ ہماری کامیابی ہے؟ اگر ہمارے پاس دولت ہے، گھر ہے، گاڑی ہے، عہدہ ہے، مگر والدین کے ساتھ بیٹھنے کے لیے چند لمحے نہیں، تو ہمیں اپنی زندگی کا حساب دوبارہ کرنا چاہیے۔ بچوں کو صرف چیزیں نہیں، والدین کا وقت چاہیے آج والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کی ہر خواہش پوری کرنا ہی محبت ہے۔ لیکن بچے صرف کھلونے، لباس، موبائل یا مہنگے اسکول نہیں چاہتے۔ انہیں والدین کی توجہ اور قربت بھی چاہیے۔ بچے کے ساتھ چند منٹ کھیلنا، اس کی بات سننا، اسکول کے بارے میں پوچھنا، اس کی پریشانی سمجھنا اور اس کے خوابوں پر گفتگو کرنا اس کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ بچپن دوبارہ واپس نہیں آتا۔ کل وہ بچہ بڑا ہوجائے گا، اپنے کام میں مصروف ہوجائے گا، اور پھر شاید آپ چاہیں گے کہ وہ آپ کے پاس بیٹھے، مگر وقت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ آج جو لمحہ آپ کے پاس ہے، یہی اصل دولت ہے۔ رشتے خاموشی سے بھی ٹوٹ جاتے ہیں رشتے ہمیشہ بڑے جھگڑوں سے نہیں ٹوٹتے۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن وقت کے ساتھ دلوں میں فاصلے پیدا کردیتی ہیں۔ اس لیے رشتوں کو وقت دینا صرف ملاقات کا نام نہیں بلکہ احساس کی موجودگی کا نام ہے۔ محبت کی سب سے خوبصورت یادگار محبت کی سب سے خوبصورت یادگار سنگِ مرمر کی عمارت نہیں، بلکہ انسان کے دل میں چھوڑی ہوئی وہ اچھی یاد ہے جو اس کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ کسی کے مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہوجانا، کسی غم زدہ انسان کو تسلی دینا، کسی بزرگ کے پاس بیٹھ جانا، کسی بچے کو وقت دینا، کسی دوست کی خاموشی سمجھ لینا…یہ سب ایسی یادگاریں ہیں جو پتھر سے نہیں بلکہ دل سے تعمیر ہوتی ہیں۔
محل رہیں نہ دولتیں، نام و نشاں رہیں نہ رہیں
اچھے برتاؤ کی خوشبو مگر زمانے میں رہتی ہے