رشتوں کو ہرحال میں نبھانا چاہئے

   

مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری
قرآن کریم میں اللہ عز وجل ارشاد فرماتا ہے: اور وہی ہے جس نے پانی سے بشر پیدا کیا، اور اس نے نسب اور سسرال کے دو سلسلے چلائے۔ تیرا رب بڑی ہی قدرت والا ہے‘‘۔ (الفرقان:۴۵) دوسرے مقام پر فرماتا ہے : ’’اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پرنگرانی کر رہا ہے‘‘۔ (سورہ النساء:۱) اللہ عز وجل نے ہی رشتے بنائے اور اسے نبھانے اور حسن سلوک کرنے کی سخت تاکید کی ہے۔ مگررشتوں کے انتخاب کرنے میں انسان کو کسی بھی قسم کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ نہ وہ اپنی مرضی و منشاء سے والدین، بھائی بہن اور دوسرے خونی رشتے دار کا انتخاب نہیں کر سکتااور نہ ہی اپنی مرضی سے انہیں رشتوں سے خارج کرسکتا ہے۔ یہ وہ رشتے ہیں جو اپنے سے کسی کو اپنا بھائی یا بہن بنالیں تب بھی وہ نہیں بناسکتے ، یہ کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے کسی بچہ یا بچی کو گود لے لیا ہو تو ان کو بھی ان کے حقیقی والدین کی طرف منسوب کرنا لازم ہے۔جب اللہ عز وجل نے ہمیں ان رشتوں سے جوڑ دیا ہے تو اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان رشتوں کو ہرحال میں نبھانا چاہئے کوئی ہمیں پسند ہو یا نہ ہو۔شرعی طور پر والدین یا قریبی رشتے داروں کو اس بات کا مکلف بنایا ہے کہ بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر توجہ دیں اور اس میں کوتاہی کی صورت میں انہیں خدا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اسلامی معاشرے کا کوئی فرد اس معنی میں بالکل آزاد اور بے نیاز نہیں ہے کہ وہ جیسے چاہے اپنی مرضی کی زندگی گزارے اور صرف اپنے لئے جیے ، بلکہ اس پر دوسروں کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔جو رشتے میں جتنا قریب ہے اس کی ذمہ داری اتنی ہی زیادہ ہوگی۔یاد رکھئیے دشمنی ‘ دو صورتوں میں پیدا ہوتی ہے، ایک جب کوئی اپنایا پرایا آپ سے حسد کرے، یہ آپ کے حسن، آپ کی لوگوں میں اہمیت، آپ کی حیثیت یا مقام سے ہوسکتا ہے۔ دوسری صورت انجانے میں کسی کا دل دکھانے یا کسی کی حق تلفی سے پیدا ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں دشمنی کی حد پار بھی کی جاسکتی ہے جیسے خاندانی دشمنیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی ہیں اور بدلے کی آگ میں کئی خاندان جل کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں تو ہابیل کو قابیل نے حسد اور دشمنی کی بناء پر قتل کیا ، حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ انسان اس کی آگ میں خود بھی جھلس جاتا ہے اور دوسروں کیلئے آفت ومصیبت کا باعث بن جاتا ہے۔ دنیاوی مال و متاع کی محبت ، بے دینی ، علم سے دوری اور خود غرضی کی وجہہ سے ہم اپنوں سے بے بہرہ ہوچکے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں گزشتہ دنوں ایک بھائی نے اپنے سگے بھائی اور بھاوج کا قتل کردیا اور ان کے ۴ بچے یتیم و یسیر ہوگئے ، جن کو رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا گیا تھا وہی رشتے آج ایک دوسرے کے قاتل بن چکے ہیں۔حقیقی بھائی نے اپنے خود بھائی بھاوج کو اولاد نہ ہونے یا خاندانی مخاصمت کے باعث قتل کردیا ۔ ان واقعات سے اگر ہمیں کوئی فکر یا تکلیف نہیں ہورہی تو سمجھ لیجئے کہ ہماری انسانیت مر چکی ہے اور ہمارا ضمیر مردہ ہوچکا ہے۔ شب قدر اور شبِ برأت جیسی عظیم راتوں کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں ملتا ہے کہ ان راتوں میں اللہ عزوجل ہر کسی کی مغفرت و بخشش فرمادیا کرتا ہے مگر رحمت الہی سے محروم رہنے افراد میں قتل ناحق کرنے والا مجرم بھی شامل ہے۔شریعت کی نگاہ میں کسی انسان کا قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:’’کسی مسلمان کو گالی دینا گناہ کاکام ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے‘‘۔ (بخاری شریف)
بہت سی آیتیں اور احادیث قتل ناحق کی مذمت اور قباحت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔یقیناًیہ ایک خطرناک قسم کا گناہ اور جرم ہے۔اللہ تعالی ایسے مجرموں کو معاف نہیں فرماتے جو انسانوں کے خون کے پیاسے ہوں۔ قتل کی گرم بازی آج کے ماحول میں چھائی ہوئی ہے اور لوگ انسانی جانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں،مال و جائیداد، عہدہ ومنصب اور عشق و محبت کے نشہ میں گرفتار ہوکر ایک دوسرے کوقتل کرنا اور خون بہانا آسان ہوگیا۔رشتے دار جن سے ہم اپنے دکھ درد بانٹا کرتے تھے آج ہم ان سے دور ہوچکے ہیں جس کی وجہہ سے ڈپریشن بڑھ رہا ہے اور خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ حالیہ واقعات ہمیں دعوتِ فکر دے رہے ہیں کہ ہم ساری دنیا سے تو رابطہ میں ہے مگر ہماری انسانیت سسک رہی ہے اور ضمیر مردہ ہوچکا ہے۔ اس کیلئے سب سے پہلے ہمیں پیار ، محبت بھائی چارگی کو فروغ دینا چاہئے ، ہر مکتبِ فکر کے ذمہ داران کی مذہبی ، ملی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ قاتلین کو سختی سے ، اپنی خانقاہوں ، مجالس، اجتماعات سے دور کریں ۔اگر سماج میں کوئی قتل کرتا ہے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے ۔