گزشتہ 13 برسوں میں رینک میں تبدیلی، سخت قوانین بھی غیرمؤثر ثابت ہوئے
حیدرآباد 7 اپریل (سیاست نیوز) کرپشن صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک ناقابل تردید حقیقت کا رُخ اختیار کرچکا ہے۔ سماج کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں رشوت ستانی نے اپنے قدم نہ جمائے ہوں۔ سرکاری شعبہ جات میں کرپشن کو تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن غیر سرکاری سطح پر بھی فائیلوں کی تیز رفتار یکسوئی کے لئے انڈر ٹیبل پے منٹ کی روایت عام ہوچکی ہے۔ دیگر ممالک کی طرح ہندوستان بھی کرپشن کے معاملہ میں گزشتہ 15 برسوں کے دوران مختلف پوزیشن حاصل کرچکا ہے۔ 2018ء اور 2019ء کے درمیان ملک میں کرپشن کی شرح دیگر برسوں کے مقابلہ زائد ریکارڈ کی گئی لیکن 2025ء میں ہندوستان کا شمار اُن ممالک میں ہوچکا ہے جنھوں نے کرپشن پر قابو پانے کے اقدامات کئے ہیں۔ دنیا کے 182 ممالک میں 2018ء اور 2019ء کے دوران ہندوستان کا 41 واں مقام تھا۔ 2012ء میں 36 ویں مقام سے بڑھتے ہوئے ہندوستان نے دنیا کے 182 ممالک میں 41 واں مقام حاصل کیا لیکن 2020ء کے بعد سے کرپشن کے معاملہ میں ہندوستان کا رینک کم ہونے لگا۔ 2025ء میں کرپشن کے معاملہ میں ہندوستان نے 39 واں مقام حاصل کرلیا ہے۔ گزشتہ سال کرپشن سے متعلق سروے میں ہندوستان کو دنیا میں 91 واں مقام دیا گیا ہے۔ بھلے ہی ملک میں کرپشن کے معاملہ میں موقف حالیہ برسوں میں تبدیل ہوتا رہا لیکن سماج سے اِس لعنت کا خاتمہ آئندہ کے لئے بھی بدستور چیلنج برقرار رہے گا۔ مبصرین کے مطابق عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے حکومتوں کی جانب سے بارہا اصلاحات نافذ کی گئیں لیکن سخت قوانین بھی کرپشن کے خاتمہ میں ناکام ثابت ہوئے۔ مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کرپشن کی حوصلہ افزائی میں عوام بھی برابر کے حصہ دار ہیں جو اپنے کاموں کی تکمیل کیلئے سرکاری ملازمین اور عہدیداروں کو رقومات کا لالچ دے کر اِس رجحان کی پرورش کررہے ہیں۔1؍V A/b/