ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے تصدیق کی ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار بیلاروس پہنچا دیے گئے ہیں، مغرب روس کو اسٹریٹجک شکست نہیں دے سکتا۔ سینٹ پیٹرز برگ میں اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ہتھیار پہنچانے کا مرحلہ موسم گرما میں مکمل کرلیا جائے گا، وہ نہیں سمجھتے کہ فی الحال انہیں نیوکلیر ہتھیاروں کا سہارا لینے کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی ہتھیار اسی صورت استعمال کیے جائیں گے جب روس کے علاقہ یا ریاست کو خطرات لاحق ہوں گے۔ اپنے خطاب میں ولادیمیر پوٹن نے دعویٰ کیا کہ روس کے پاس ناٹو ممالک سے زیادہ ہتھیار ہیں اس لیے وہ ہتھیاروں کی کمی پر بات چیت کی طرف گامزن رہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روسی فوج کیف کے مرکز میں موجود کسی بھی عمارت کو تباہ کر سکتی ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے، ماسکو کے قریب حملہ کرکے انہیں اکسانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ ایسے اشارے نہیں ملے کہ یوکرین پر حملہ کے لیے روس ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ بیلاروس کی حکومت یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی کلیدی اتحادی ہے۔