رکن پارلیمنٹ اسد اویسی عوام کے درمیان

   

کم ووٹوں سے کامیابی وجہ یا پارلیمنٹ الیکشن کی تیاری
حیدرآباد2 جنوری (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں مجلسی امیدواروں کی کم ووٹوں سے کامیابی کے بعد صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر حلقہ حیدرآباد کے حلقہ جات اسمبلی میں پرجا پالانا پروگرامس میں نظرآنے لگے ہیں اور صبح کی اولین ساعتوں سے وہ مختلف علاقوں کا دورہ کرکے عوام سے ملاقات کررہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اسداویسی نے آئندہ انتخابات تک عوام میں رہ کر ان کے مسائل سے آگہی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ بالواسطہ انتخابی مہم پر نکل چکے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں اسد اویسی نے سب سے زیادہ وقت سکندرآباد کے تحت حلقہ اسمبلی نامپلی میں دیا تھا اور پیدل دوروں و انتخابی جلسوں سے خطاب میں عوام کو جماعت کا ہمنوا بنانے کی کوشش کی اور اس میں انہیں کامیابی بھی ملی ۔ حلقہ نامپلی سے 2000 سے زائد ووٹوں سے مجلسی رکن اسمبلی محمد ماجد حسین کامیابی ہوئے ۔ اسد اویسی نے اسمبلی انتخابات میں پرانے شہر کے حلقہ یاقوت پورہ کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی اور یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ اس حلقہ سے مجلس کو کوئی مقابلہ درپیش نہیں ہے لیکن نتائج نے مجلسی قیادت کو آئینہ دکھادیا اور یاقوت پورہ سے مجلس کو محض 850 ووٹوں سے کامیابی ملی ۔ دیگر حلقہ جات میں رائے دہی کے فیصد میں کمی نے بھی مجلس کو پریشان کیا ہوا ہے کیونکہ پولنگ فیصد میں کمی سے پارلیمانی انتخابات کے نتائج بھی توقع کے برخلاف ہوسکتے ہیں اسی لئے اسداویسی نے کسی رکن اسمبلی یا اراکین بلدیہ پر انحصار کی بجائے خود عوام میںپہنچنے کا فیصلہ کرکے صبح کے وقت کارپوریٹرس کی سرگرمیوں اور پرانے شہر کے علاقہ میں صفائی کے انتظامات وغیرہ کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ حکومت کے پرجا پالانا پروگرام میں صدر مجلس نہ صرف خود حصہ لے رہے ہیں بلکہ اراکین اسمبلی و بلدیہ کو ہدایت کہ وہ پروگرام سے عوام کو فائدہ پہونچائیں۔3