لوک سبھا ٹکٹ کی صورت میںکانگریس میں شمولیت کا اشارہ ۔ بی آر ایس کا متبادل حکمت عملی پر غور
حیدرآباد۔12۔مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں تین بی آر ایس ارکان پارلیمان کے پارٹی چھوڑنے کے بعد اب چوتھے رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی بھی پارٹی سے علحدگی اختیار کرسکتے ہیں کیونکہ گذشتہ دنوں چیوڑلہ ایم پی رنجیت ریڈی بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کے طلب کردہ اجلاس سے غیر حاضر رہتے ہوئے یہ اشارے دیئے ہیں کہ وہ پارٹی سے دوری اختیار کر رہے ہیں اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق رنجیت ریڈی نے تلنگانہ میں برسراقتدار کانگریس قائدین کو یہ اشارے بھی دیئے کہ اگر انہیں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے ٹکٹ دیا جاتا ہے تو وہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ حلقہ چیوڑلہ سے کانگریس نے سابق وزیر مسٹر پی مہندرریڈی کی اہلیہ پی سنیتا ریڈی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن رنجیت ریڈی کے کانگریس میں شمولیت کے امکانات کے بعد صورتحال غیر واضح ہوگئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق رنجیت ریڈی جاریہ ہفتہ دہلی میں صدر کل ہند کانگریس مسٹر ملکارجن کھرگے سے ملاقات کرکے پارٹی میں شمولیت کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں اور پارٹی نے حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ مسٹر رنجیت ریڈی کو دوبارہ امیدوار بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ بی آر ایس سے رنجیت ریڈی کی علحدگی سے حلقہ چیوڑلہ سے بی آر ایس نے اپنے امیدوار کا بھی فیصلہ کرلیا ہے اور جلد ہی پارٹی اعلان کرے گی۔ سابق وزیر پی مہندرریڈی نے اپنے خاندان کے ساتھ کانگریس میں شمولیت اختیار کرکے کانگریس کو علاقہ میں مستحکم کرنے میں کلیدی کردار اداکیا تھا لیکن اب جبکہ اس حلقہ سے رکن پارلیمنٹ خود پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں تو کانگریس کی جانب سے دونوں قائدین کے درمیان مفاہمت کے بعد اس نشست پر امیدوار کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق بی آر ایس نے رنجیت ریڈی کی کانگریس میں شمولیت پر سابق وزیر سبیتا اندرا ریڈی کے فرزند کارتک ریڈی کو چیوڑلہ سے امیدوار بنانے کی منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے۔3