دونوں شہروں میں ولاس اور کلب ہاوز کے مالکین سوئمنگ پولس بند کرنے پر مجبور
شہر میں پانی کی قلت …
حیدرآباد۔7۔نومبر۔(سیاست نیوز) پانی کی قلت نے شہر حیدرآباد کے سرکردہ رہائشی اپارٹمنٹس اور ولاس جہاں کلب ہاؤز میں’’سوئمنگ پولس‘‘ موجود ہیں انہیں بند کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔بتایاجاتاہے کہ دونوں شہرو ںحیدرآباد وسکندرآباد نواحی علاقوں میں جہاں اعلیٰ معیاری سہولتوں سے آراستہ ہمہ منزلہ رہائشی اپارٹمنٹس یا ولاس موجود ہیں ان کے کلب ہاؤز میں جو سوئمنگ پولس ہیں انہیں بند کردیاگیا ہے۔ معیاری سہولتوں اور عالمی سہولتوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی خواہش کے ساتھ ان سرکردہ اپارٹمنٹس میں رہائش اختیارکرنے والوں کو پانی کی قلت کے سبب جن تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان سے نمٹنے کے لئے رہائشی اپارٹمنٹس کی تنظیموں کی جانب سے اہم اور سخت فیصلے کئے جانے لگے ہیں کیونکہ پینے کے پانی کی قلت سے دوچار افراد پانی خرید کر استعمال کر سکتے ہیں اور جنہیں استعمال کے پانی کی خریدی کرنے پڑتی ہے وہ اب ان کے لئے مشکل ہونے لگی ہے اسی طرح ان رہائشی اپارٹمنٹس اور ولاس میں جہاں سوئمنگ پولس موجود ہیں انہیں پانی خرید کر ہی سوئمنگ پولس میں بھرنا پڑتا ہے اور اب وہ بند کئے جانے لگے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ ایک سوئمنگ پول میں جہاں 1تا1.5لاکھ لیٹر پانی ہوتا ہے اس میں یومیہ صفائی کیلئے 10تا15ہزار لیٹر پانی تبدیل کرنا ہوتا ہے اور جو پانی تبدیل کیا جاتا ہے وہ ضائع ہورہا ہے اسی لئے رہائشی اپارٹمنٹس کے امور کی نگرانی کرنے والی تنظیموں نے سوئمنگ پولس کو غیر کارکرد بنانے کے ساتھ ساتھ جو پانی ضائع ہورہا ہے اسے باغبانی کیلئے استعمال کرنے کی تاکید شروع کردی ہے اور کہاجارہاہے کہ زائد از 90 فیصد رہائشی اپارٹمنٹس میں سوئمنگ پولس اور ان کے اطراف کی سرگرمیوں کو بند کردیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ تاحکم ثانی ان سوئمنگ پولس کو مکمل طور پر بند ہی رکھا جائے گا۔ شہری انتظامیہ اور بلدی عہدیدار اور آبرسانی عہدیداروں کی جانب سے کی جانے والی تاکید کے بعد اس طرح کے اقدامات کرنے کے علاوہ پانی کی بچت کے سلسلہ میں شعور بیداری کے پروگرام منعقد کئے جانے لگے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ رہائشی اپارٹمنٹس میں مکینوں کو کم از کم 30 فیصد پانی کی بچت کا مشورہ دیا جا رہاہے اور آئندہ ایک ماہ کے دوران پانی کی بچت کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ آبرسانی کی جانب سے مزید اصلاحات لانے سے متعلق تجاویز حکومت کو روانہ کی جائیں گی۔3/a/b