ریاست بھر میں پرجا پالنا کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آغاز

,

   

٭ دونوں شہروں اور نواحی علاقوں میں مناسب انتظامات کا فقدان
٭ کچھ مراکز کے قریب فارمس کی فروخت کے واقعات بھی پیش آئے
٭ شہر میں انچارچ وزیر حیدرآباد پونم پربھاکر نے کئی مراکز کا دورہ کیا
٭ اضلاع میں کابینی وزراء نے مختلف مراکز کے دورے کئے

حیدرآباد۔28۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کے تمام اضلاع میں پرجا پالنا اسکیم کی درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع ہوگیا ہے اور ریاست کے بیشتر مقامات پر درخواستوں کی وصولی کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ۔ لیکن دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میں مناسب انتظامات نہ ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ پرانے شہر کے کئی مقامات کے علاوہ مشیر آباد حلقہ اسمبلی میں کئی مراکز پر سرکاری عہدیداروں کی موجودگی کے باوجود اسکیم کے لئے فارمس کو فروخت کیا گیا اور اس بات کی شکایات خود منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ حکومت کی اس اسکیم سے استفادہ کیلئے ہزاروں کی تعداد میں عوام مراکز پر پہنچے جہاں انہیں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کے کئی مراکز پر وزیر پسماندہ طبقات مسٹر پونم پربھاکر نے پہنچ کر انتظامات کا جائزہ لیا اور حلقہ اسمبلی راجندر نگر میں وزیر ڈی سریدھر بابو نے اس اسکیم کیلئے درخواست فارمس کی اجرائی کے اقدامات اور فارم کی وصولی کا جائزہ لیا۔ پرانے شہر کے علاوہ بعض دیگر علاقوں میں درمیانی افراد کی جانب سے فارمس کی فروخت کی شکایات موصول ہوئیں لیکن حلقہ اسمبلی کاروان اور یاقوت پورہ میں ارکان اسمبلی نے عوام کو ان مراکز سے گھر روانہ کیا اور کہا کہ فارمس ان کے گھروں تک پہنچائے جائیں گے ۔ حکومت کی اسکیمات سے استفادہ کیلئے فارمس کی وصولی کے پہلے دن ہنگامہ آرائی کو دور کرنے عہدیداروں نے بتایا کہ وہ آئندہ دو یوم میں درخواست فارمس کی وصولی کے مراکز پر مزید سہولتوں اور طریقہ کار کو بہتر بنانے اقدامات کریں گے۔ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارنے شہر کے نواحی علاقہ میں فارمس کی تقسیم و ادخال کے عمل کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب میں ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں عوامی حکمرانی کا دور لوٹ آیا ہے اور حکومت عوام کے در پر پہنچ کر ان کے کام انجام دے رہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک کی تاریخ میں 28 ڈسمبر سنہرے حروف سے کندہ ہے کیونکہ اسی تاریخ کو کانگریس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور تلنگانہ میں اب 28 ڈسمبر سنہرے حروف سے لکھی جائے گی کیونکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد عوامی حکمرانی کے دورکا آغاز ہونے کے بعد نئی اسکیمات پر عمل کی شروعات ہونے جا رہی ہے۔ مختلف اضلاع میں کابینی وزراء نے پرجاپالانا پروگرام میں شرکت کرکے عوام کو ’ابھیا ہستم‘ اسکیم کے قد و خال سے واقف کروایا اور کہا کہ ایک ہی فارم کے ذریعہ عوام سے تمام درخواستوں کی وصولی کے ذریعہ راحت پہنچائی جا رہی ہے۔ دونوں شہروں کے مراکز پر بڑی تعداد میں عوام کے پہنچنے کے سبب عہدیداروں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا لیکن بعض مقامات پر سیاسی کارکنوں کو عوام کی مدد کرتے دیکھا گیا جبکہ کئی علاقو ںمیں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو اسکیم کے فارمس فروخت کرتے دیکھا گیا۔ حکومت سے 28ڈسمبر 2023 سے 6 جنوری2024تک ان درخواستو ںکو مراکز پر وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ 6جنوری کے بعد بھی یہ درخواست فارم مختلف سرکاری دفاتر میں وصول کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ خیریت آباد میں انچارج وزیر مسٹر پونم پربھاکر نے فارم کی وصولی کے مراکز کا معائنہ کرکے عوام سے ملاقات کی ۔ ان کے ہمراہ رکن اسمبلی خیریت آباد ڈی ناگیندر کے علاوہ مئیر حیدرآباد وجیہ لکشمی اور دیگر موجود تھے۔ مسٹر سریدھر بابو نے حلقہ اسمبلی راجندر نگر و دیگر علاقوں میں درخواستوں کی وصولی کے مراکز کا معائنہ کرکے عوام سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مشکلات کے متعلق آگہی حاصل کی۔ ڈی سیتا اکا نے عادل آباد میں پرجاپالانا پروگرام کا آغاز کیا اور عوام سے درخواستوں کی وصولی کے عمل کا مشاہدہ کیا۔بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ نے شہر کے بیشتر مراکز کا دورہ کرکے عوام سے ملاقات کی اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ درخواستوں کے ادخال میں کوتاہی نہ کریں ۔ ریاست کے بیشتر اضلاع میں حکومت سے قائم مراکز پر خصوصی سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی اور درخواست گذاروں کو بیٹھنے اور انتظار کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی ۔ شہر کے بیشتر مراکز پر مناسب انتظامات کے فقدان پر حکام نے بتایا کہ حکومت سے انتظامات کے علاوہ کئی مقامات پر عوامی نمائندوں نے انتظامات کو بہتر بنایا ہے ۔3