حکومت کو داخلوں کیلئے قوانین میں نرمی پیدا کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔8۔اگسٹ(سیاست نیوز) پالی ٹیکنک کالجس میں 7853 نشستیں مخلوعہ رہ گئی ہیں جن پر داخلوں کیلئے کونسل برائے اعلیٰ تعلیمات کو اقدامات کرنے چاہئے تاکہ پالی ۔سیٹ تحریر نہ کرکے بھی اعلیٰ نشانات کے حامل طلبہ پالی ٹیکنک کالجس میں داخلہ حاصل کرسکیں۔ تلنگانہ میں مجموعی اعتبار سے 28 ہزار 562پالی ٹیکنک نشستیں ہیں جن میں آخری مرحلہ کی کونسلنگ کی تکمیل کے بعد 20 ہزار 709داخلہ دیئے جاچکے ہیں۔ کمشنر محکمہ تعلیم مسٹر نوین متل آئی اے ایس نے بتایا کہ تلنگانہ میں پالی ٹیکنک میں موجود جملہ نشستوں پر داخلوں کی تکمیل کے باوجود 7ہزار 853نشستیں مخلوعہ ہیں جن میں 900 نشستیں سرکاری پالی ٹیکنک کالجس میں ہیں جبکہ 16 خانگی کالجس میں 16ہزار 410 داخلہ دیئے گئے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں جملہ 118 پالی ٹیکنک کالجس ہیں جن میں 24کالجس میں 100 فیصد نشستوں پر داخلوں کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ 54 سرکاری کالجس میں 11ہزار 174 نشستوں میں 10ہزار 448 طلبہ کو داخلہ فراہم کیا گیا ۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے محکمہ تعلیم بالخصوص فنی تعلیم کے عہدیداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پالی سیٹ میں ناکام ایسے طلبہ کو داخلہ دیں جو مطلوبہ مضامین میں اعلیٰ نشانات حاصل کرچکے ہیں لیکن کسی وجہ سے پالی ۔ سیٹ میں داخلو ںکے اہل قرار نہیں پائے ۔ کالجس ذمہ داروں کا کہناہے کہ اگر حکومت اور محکمہ تعلیم سے یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے اور اس کیلئے علحدہ کونسلنگ کا اہتمام کیا جاتا ہے تو مخلوعہ نشستوں کو بھی پر کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پالی ٹیکنک میں تعلیم کے حصول کے رجحان میں اضافہ کے باوجود مختلف وجوہات کی بناء پر کالجس میں نشستیں مخلوعہ ہیں اور ان پر داخلوں کی اجازت دیئے جانے پر انتظامیہ کو بھی نقصان نہیں ہوگا اور طلبہ کو بھی فائدہ ہوسکے گا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق پالی ٹیکنک میں داخلہ کیلئے موجود شرائط میں نرمی کا اگر حکومت سے کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ ایسا کرسکتے ہیں لیکن اگر حکومت سے مخلوعہ نشستوں کو پر کرنے اقدامات نہیں کئے گئے تو وہ بھی ان نشستوں پر داخلوں کی فراہمی سے قاصر ہیں۔م