ریاست کو اپریل سے جولائی کے درمیان 71,290 کروڑ روپئے کی آمدنی

   

گذشتہ سال کے مقابلے 3796 کروڑ روپئے کا اضافہ ، سی اے جی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد 17 ستمبر ( سیاست نیوز ) ٹیکسوں کے ذریعہ ریاست کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے ۔ گذشتہ مالیاتی سال 2023-24 کے پہلے 4 ماہ اپریل تا جولائی ٹیکسوں سے ریاست کو 42,712 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی جاریہ سال 2024-25 میں ان ہی 4 ماہ کے دوران 44,575 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ جی ایس ٹی وصولیوں میں کمی کے باوجود انتخابات کے پیش نظر شراب اور پٹرول کی فروخت میں بھاری اضافہ ہوا جس کی وجہ سے ویاٹ اور اکسائز ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ سی اے جی کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے ۔ اپریل سے جولائی تک ریاست کی آمدنی اور اخراجات کے ساتھ نئے قرض اور پرانے بقایا جات پر ادا سود کا بھی اس رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ۔ حالانکہ مرکز کی جانب سے وصول کئے جانے والے ٹیکسوں میں ریاست کا حصہ بڑھ گیا ہے ۔ لیکن مرکز سے ریاست کو الگ سے دی جانے والی گرانٹس میں 437 کروڑ کی کمی آئی ہے ۔ جہاں ٹیکسوں سے حکومت کی آمدنی بڑھ رہی ہے ۔ وہیں نان ٹیکس ریونیو میں 558 کروڑ روپئے کی کمی ہوئی ہے ۔ اپریل سے جولائی تک ریاست کی جملہ آمدنی 71,290 کروڑ روپئے پائی گئی ہے ۔ جن میں قرض 23,563 کروڑ روپئے ہیں اور مرکز سے تمام طرح کے ٹیکس ، غیر ٹیکس اور گرانٹس 47,727 کروڑ روپئے ہیں ۔ قرض کو چھوڑ کر پچھلے سال کی آمدنی 46,845 کروڑ روپئے تھی اور اس سال اس میں 882 کروڑ روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ قرضے بھی گذشتہ سال کے مقابلے 2.926 کروڑ روپئے زیادہ لیے گئے ہیں ۔ عام طور پر ایک ماہ میں چار سے پانچ ہزار کروڑ کا قرض لینا معمول ہے ۔ گذشتہ جولائی میں حکومت نے 15 اگست تک زرعی قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا اور 10,392.71 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا تھا ۔ گذشتہ سال کے 4 مہینوں میں ریاستی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے 13,686 کروڑ روپئے ادا کئے گئے تھے ۔ جبکہ جاریہ سال اس مدت میں 14,724.84 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ۔ سبکدوش ملازمین کی پنشن 5461.89 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 5741.72 کروڑ روپئے ہوگئی ۔ پرانے بقایا جات پر سود 7174 کروڑ سے بڑھ کر 8192 کرور روپئے ہوگیا اور غریب عوام کی فلاحی اسکیمات کیلئے سبسیڈی 3424 کروڑ سے بڑھ کر 4294 کروڑ روپئے ہوگئی ۔ پرانے بقایا جات پر اصل سود سمیت قسطوں میں ادا کی جانے والی رقم 5200 کروڑ روپئے سے زیادہ ہے ۔ اس طرح آمدنی یا مالیاتی خسارہ چار ماہ میں 23,563.71 کروڑ تک پہونچ گیا ۔ سرکاری ذرائع نے وضاحت کی اس کو ادا کرنے مزید نئے قرض حاصل کرنا پڑرہا ہے ۔ حالانکہ ریاستی بجٹ میں موجودہ مالیاتی سال کا جملہ خسارہ 49,255 کروڑ روپئے ہے ۔ اس کا 47.84 فیصد پہلے 4 مہینوں میں ریکارڈ کیا گیا تھا گزشتہ سال اسی مدت میں مالیاتی خسارہ 36.81 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سال ریاست کی آمدنی 297 کروڑ روپئے ہوگی لیکن جولائی تک 11,328 کروڑ روپئے کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ سی اے جی کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ گذشتہ سال ریونیو خسارہ 3458 کروڑ روپئے تھا ۔۔ 2