ریاست کو مالیاتی دیوالیہ کے طور پر پیش نہ کیا جائے : اکبر الدین اویسی

   

آلیر انکاونٹر اور وقف جائیدادوں کی سی بی سی آئی ڈی رپورٹ فوری اسمبلی میں پیش کرنے پر زور
حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ مجھے میرے سیاسی مقاصد سے زیادہ میری ریاست کا وقار عزیز ہے ۔ صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے ریاست تلنگانہ کو مالیاتی دیوالیہ کے طور پر پیش نہ کریں یہ کوشش سرمایہ کاروں کے لیے ریاست کے دروازے بند کردے گی اور ملک میں ریاست کی نیک نامی متاثر ہوگی ۔ 6 ضمانتوں ، 5 ڈیکلریشن اور کانگریس کے منشور سے عوام کو جو وعدے کئے گئے ہیں ۔ اس کو غیر مشروط طریقہ سے تکمیل کریں ۔ آپ کی ناکامی بی جے پی کی کامیابی کا سبب نہ بن جائے ، اس کا خیال رکھیں ۔ بصورت دیگر مدھیہ پردیش ، راجستھان جیسے نتائج برآمد ہوں گے ۔ اسمبلی میں حکومت کی جانب سے ریاست کی مالیاتی صورتحال پر پیش کردہ وائیٹ پیپر کے مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے وقف جائیدادوں پر قبضوں کے متعلق تیار کی گئی سی بی سی آئی ڈی رپورٹ اور آلیر انکاونٹر کی تحقیقاتی رپورٹ فوری اسمبلی میں پیش کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرلیا جائے تو مسلمانوں کو کسی پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ مسلمانوں کو تعلیم کا مسئلہ حل ہوگا ، بیروزگاری دور ہوگی ، بیواؤں اور یتیموں کی فلاح و بہبود ہوگی ، آلیر انکاونٹر کے قاتلوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں ، پرانے شہر کو ترقی دیں ، بی آر ایس کے دور حکومت میں اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لیے سالانہ اوسطاً 6 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ کانگریس حکومت اس کو برقرار رکھیں بلکہ اس میں مزید اضافہ کرے ۔ ٹمریز میں 97 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں ان طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ میں ترقی اور فلاحی اسکیمات کے لیے جو اقدامات اور فنڈز خرچ کئے گئے اس سے زیادہ فنڈز بی آر ایس کے دور حکومت میں خرچ کئے گئے ۔ اکبر الدین اویسی کی تقریر پر بی آر ایس کے ارکان اسمبلی بنچس تھپ تھپاتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ۔ مجلس کے قائد مقننہ نے کہا کہ حکومت اور اصل اپوزیشن پولیٹیکل اسکور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے ہوئے ریاست کی نیک نامی کو متاثر نہ کریں ۔ اس کا عوام میں ملک میں سرمایہ کاروں میں غلط پیغام پہونچے گا ۔ حکومت نے اپنی سہولت کے لحاظ سے وائیٹ پیپر میں کہی سی آئی جی رپورٹ کہی آر بی آئی رپورٹ کہی اسٹیٹ بجٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس کو صحیح اور کس کو غلط ثابت کریں ۔ اعداد و شمار ہر صفحہ پر الگ الگ ہے ۔ میں امید کررہا تھا وائیٹ پیپر میں مرکزی حکومت کے تلنگانہ کو وصول شدہ بقایا جات ، سنٹرل ٹیکسیس ، گرانٹ ان ایڈ کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں گی ۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت نے گذشتہ 10 سال کے دوران جو قرض حاصل کیا ہے ۔ اس کا بھی تذکرہ کیا جائے گا مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس کا ذکر بھی نہیں کیا گیا ہے ۔ وائیٹ پیپر کی اجرائی کے لیے عہدیداروں نے حکومت کو غلط اعداد و شمار پیش کیا ہے ۔ ایسے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ میں کسی کی تائید یا مخالفت میں کھڑا نہیں ہوں مجھے میری ریاست اور اس کا وقار عزیز ہے ۔ کانگریس حکومت نے بی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو پیش کیا مگر اسی وائیٹ پیپر میں کانگریس کی 6 ضمانتوں ، 5 ڈیکلریشن اور پارٹی منشور میں جو وعدے کئے گئے ہیں اس کو کیا پورا کریں گے ۔ اس کی وضاحت نہیں کی گئی وہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل تمام وعدے پورے کردیں ۔ اس معاملے میں مجلس حکومت کی مکمل تائید کرے گی ہم عوام کے جو توقعات ہیں اس کو پورا کرانا چاہتے ہیں ۔ اس معاملے میں کانگریس کی ناکامی بی جے پی کی کامیابی کا سبب بن جائے گی ۔ لوک سبھا انتخابات میں فرقہ پرستی اور نفرت پھیلانے کے ساتھ ملک کو کمزور کرنے والے طاقتوں کو شکست دینے کی ضرورت ہے ۔۔ ن