ریاست کے مسائل سے ہم بہتر واقف ہیں، مرکز کا رویہ ٹھیک نہیں: کے سی آر
حیدرآباد۔18۔ مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی جانب سے مجالس مقامی کو راست فنڈس کی اجرائی پر تنقید کی اور کہا کہ ریاستی حکومتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مرکز اسکیمات پر عمل آوری کی کوشش کر رہا ہے۔ پرگتی بھون میں جائزہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے کہا کہ مجالس مقامی کو راست فنڈس کی اجرائی ایک گھٹیا حرکت ہے۔ مرکز کے اس اقدام کی ہرگز تائید نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے پروگرام جیسے جواہر روزگار یوجنا ، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا ، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائیمنٹ گیارنٹی اسکیم اور دیگر اسکیمات کے لئے راست فنڈس جاری کئے جارہے ہیں۔ مرکز کا یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ریاستوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ راجیو گاندھی سے منموہن سنگھ تک مرکزی اسکیمات کے فنڈس ریاستوں کو جاری کرنے کی روایت رہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کی ضروریات اور حالات سے ریاستی حکومت بخوبی واقف ہوتی ہے، لہذا اسکیمات پر عمل آوری ریاستی حکومت کے ذریعہ ہونی چاہئے ۔ پنچایت راج اداروں کو راست فنڈس کی اجرائی سے ان کے استعمال کے بارے میں ریاستی حکومت پر ذمہ داری نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت دیہی علاقوں کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے ریاستوں کو اعتماد میں لے کر کام کرنا چاہئے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ضمانت روزگار اسکیم کے تحت مزدوروں کو روزانہ کی اجرت دہلی سے جاری کرنا درست نہیں ہے۔ آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کو ہے لیکن آج تک کئی گاؤں اور شہر برقی سے محروم ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث عوام سڑکوں پر احتجاج کے لئے مجبور ہیں۔ تعلیم ، صحت اور دیگر شعبہ جات میں مزید ترقی کی ضرورت ہے۔ ایسے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے مرکزی حکومت ریاست کے امور میں مداخلت کر رہی ہے۔ر