ریاست کے سرکاری اسپتالوں کی ابتر صورتحال ، سہولتوں کا فقدان

   

رمس عادل آباد میں صفائی کے ناقص انتظامات ، ریونت ریڈی حکومت ناکام ، سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کویتا کا الزام
نظام آباد۔ 26ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کے کویتا نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی حکومت انتظامی صلاحیت سے عاری اور ناکام حکومت ثابت ہوئی ہے اور حکومت کی لاپرواہی کے باعث ریاست میں ہر سال تقریباً چار ہزار شیرخوار بچے سرکاری اسپتالوں میں جان گنوا رہے ہیں۔ تلنگانہ رکشنا سینا کے دفتر میں ہفتہ کو میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ عادل آباد کے رمس اسپتال میں شیرخوار بچوں کی اموات کے بعد ایک دوست نے انہیں ریاست کے طبی و صحت شعبہ کی صورتحال سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے، جنہیں دیکھنے کے بعد وہ دو دن تک سو نہیں سکیں کیونکہ ان اعداد و شمار میں تلخ حقائق سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسپتالوں میں 2020-21 کے دوران تقریباً 6 ہزار، 2022-23 میں 4,933 اور 2024-25 ء میں 3,853 شیرخوار بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ کویتا نے کہا کہ ریاست کے تقریباً ہر ضلع میں سالانہ سینکڑوں شیرخوار بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں بھی 1,046 بچوں کی اموات کے باوجود حکومت کی جانب سے مناسب انسانی ہمدردی اور توجہ کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ سال طبی شعبہ کے لیے 13,192 کروڑ روپئے مختص کیے گئے تھے، لیکن صرف 9,242 کروڑ روپئے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مختص بجٹ خرچ نہ کرنے پر کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کاغ) نے بھی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔ کویتا نے بتایا کہ ریاست میں 11 ہیلتھ اسکیمیں موجود ہیں، جن میں سے سات اسکیموں کے لیے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا گیا، جبکہ آروگیہ شری کے لیے 700 کروڑ روپئے مختص کیے جانے کے باوجود صرف 140 کروڑ روپئے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آروگیہ شری اسکیم کے تقریباً 500 کروڑ روپئے کے بقایاجات زیر التوا ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کی ادائیگی کے لیے رقم جاری نہیں کی جارہی ہے۔ ریاست کے سرکاری اسپتالوں کی ابتر صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ عادل آباد کے رمس اسپتال میں ہر طرف گندگی اور ناقص انتظامات نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر اور اپوزیشن قائدین حال ہی میں رمس اسپتال کا دورہ کرچکے ہیں، اس کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دیگر سرکاری اسپتالوں کی حالت کیا ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر صحت عادل آباد پہنچنے کے باوجود طبی سہولتوں کی بہتری پر توجہ دینے کے بجائے ہیلی کاپٹر کے ایندھن کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے واپس چلے گئے اور ضلع انتظامیہ کو عوام کو بہتر علاج فراہم کرنے کے لیے مؤثر ہدایات نہیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ عادل آباد میں سڑکوں کی خستہ حالی بھی عوام کی مشکلات اور اموات کا سبب بن رہی ہے۔ ان کے مطابق آئی ٹی ڈی اے کے تحت موجود تقریباً 70 فیصد فنڈز بھی حکومت استعمال نہیں کرپارہی ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان فنڈز کو بروئے کار لاتے ہوئے اُٹنور ایجنسی علاقہ میں سڑکوں کی تعمیر کی جائے۔ کویتا نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور نیلوفر اسپتال میں بیڈ آکیوپینسی 200 فیصد تک پہنچ جانے کے باعث مریضوں کو بستروں کے حصول میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نمس اسپتال میں وزیراعلیٰ کی سفارش کے بغیر بیڈ حاصل کرنا مشکل ہے اور بعض اوقات وزیر صحت کی سفارش کے باوجود بھی بیڈ دستیاب نہیں ہوتا، جبکہ سرجری کے لیے مریضوں کو سات ماہ تک انتظار کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت سے اراضی حاصل کرکے غریبوں کو 25 فیصد مفت علاج فراہم کرنے کا معاہدہ کرنے والے بعض کارپوریٹ اسپتال غریب مریضوں کو اپنے اسپتال کے اندر داخل ہونے تک نہیں دیتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے اسپتالوں میں معاہدے کے مطابق غریبوں کو 25 فیصد مفت طبی سہولت فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ اپنی جائیداد سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کویتا نے کہا کہ انتخابی حلف نامے میں درج اثاثوں سے ایک روپیہ بھی زیادہ اثاثہ ہونے کا کوئی شخص ثبوت پیش کردے تو وہ وہ رقم واپس کردیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا فارم ہاؤس قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے اور وہاں کوئی قبضہ شدہ اراضی، ایف ٹی ایل زون یا اسائنڈ لینڈ موجود نہیں ہے۔ ہر رقم قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے حاصل کی گئی ہے اور آئندہ بھی وہ اسی اصول پر قائم رہیں گی۔