ریونت ریڈی تلنگانہ کے ریگولر چیف منسٹر نہیں : کے ٹی آر

   

دہلی کو ٹیکس ادا کرتے ہوئے ہر ماہ اپنی میعاد میں توسیع ، پارٹی کارکنوں کا اجلاس
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی تلنگانہ کے ریگولر چیف منسٹر نہیں ہے۔ دہلی کو تھیلے روانہ کرتے ہوئے ہر ماہ اپنی میعاد میں توسیع کرا رہے ہیں ۔ آج ستو پلی ضلع کھمم میں منعقدہ بی آر ایس پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی محض دہلی کے ایک پارٹ ٹائم ملازم کی طرح کام کررہے ہیں ۔ جن کا واحد کام دہلی جاکر ٹیکس ادا کرنا ہے ۔ انہوں نے کانگریس اور بی آر ایس حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بی آر ایس حکومت نے 11 مرتبہ کسانوں کے کھاتوں میں 73 ہزار کروڑ روپئے براہ راست جمع کرائے تھے ۔ لیکن موجودہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کسانوں کو فائدہ پہونچانے کے بجائے 73 مرتبہ دہلی کا دورہ کرچکے ہیں ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے متحدہ ضلع کھمم کی نمائندگی کرنے والے تینوں وزراء پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ میں ضلع کھمم سے تین وزراء شامل ہونے کے باوجود کھمم کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ انتہائی شرم کی بات ہے کہ وزیر زراعت کا اسی ضلع سے تعلق ہونے کے باوجود کسانوں کو یوریا کی قلت کا سامنا ہے ۔ کے ٹی آر نے حکومت کے زرعی ایپ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دوکانوں میں یوریا ہوگا تبھی ایپ کام کرے گا ۔ بی آر ایس کے دوبارہ برسر اقتدار آتے ہی اس بیکار ایپ کو خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے گا ۔ انہوں نے کھمم کی نمائندگی کرنے والے وزیر فینانس و ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ساوتھ کے مشہور اداکار کمل ہاسن سے بھی بہتر اداکاری کررہے ہیں ۔ ریاست کی ہر خاتون کو ماہانہ 2500 روپئے دینے کا وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا ۔ کے ٹی آر نے بگاپاڈو فوڈ پارک کی اراضی کے معاملے پر سنگین اسکام کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فوڈ پارک کی قیمتی اراضیات آندھرا کی ایک کمپنی کو انتہائی کم قیمت پر دے کر مقامی لوگوں کا استحصال کیا جارہا ہے ۔۔ 2/m/b