کسانوں کے احتجاج کی حمایت ، موسیٰ ندی کے انہدامی کارروائیوں کی مذمت
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سینئیر رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے ریونت ریڈی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا وہ چیف منسٹر ہے یا رئیل اسٹیٹ کے بروکر ہے ؟ اسمبلی حلقہ ظہیر آباد کے حدود میں شامل نیالکل میں حکومت کی جانب سے قائم کئے جانے والے فارما سٹی کے مسئلہ پر احتجاج کرنے والے کسانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ریونت ریڈی کی حکمرانی پاگل کے ہاتھ میں پتھر کے مترادف ہوگئی ہے ۔ وہ پتھر ظہیر آباد کے کسانوں کے سر پر پڑ رہے ہیں ۔ فارما سٹی کے لیے کے سی آر نے 15 ہزار ایکر اراضی کے لیے آلودگی سے پاک صفر فضلہ ، ماحولیات اور جنگلات کے بشمول تمام اقسام کی منظوریاں حاصل کرچکے تھے ۔ لیکن چیف منسٹر ریونت ریڈی فارما سٹی کو منسوخ کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہائی کورٹ نے رنگاریڈی میں فارما سٹی ہے یا نہیں سوال کرنے پر ریونت ریڈی حکومت نے ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تین تا چار ہزار ایکر اراضی پر فارما سٹی قائم کرتے ہوئے ماباقی اراضی پر رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنے کی چیف منسٹر کوشش کررہے ہیں ۔ نیالکل فصل کے قابل اچھی اراضی ہے جہاں پر زبردست کاشت ہورہی ہے ۔ تین کاشت ہورہی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے نام پر غریب عوام کے مکانات کا انہدام کیا جارہا ہے ۔ غریبوں کے مکانات کو منہدم کرنا اراضیات چھین لینا کیا یہی اندراماں حکومت ہے سوال کیا ۔ اندرا گاندھی نے غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دیا تھا ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی غریبوں کو ہٹانے اور کسانوں کو ان کے اراضیات سے بیدخل کرنے کا کام کررہے ہیں ۔۔ 2