ریونت ریڈی کے بیرونی دورہ سے واپسی کے بعد کابینہ میں توسیع و نئے پی سی سی صدر کا تقرر

,

   

15 اگسٹ کے بعد ہائی کمان سے مشاورت کا فیصلہ، نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے چیف منسٹر پر دباؤ، قائدین میں بے چینی
حیدرآباد۔/4 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں طویل عرصہ سے زیر التواء کابینہ میں توسیع توقع ہے کہ 15 اگسٹ کے بعد عمل میں آئے گی اور چیف منسٹر ریونت ریڈی دورہ امریکہ سے واپسی کے بعد پارٹی ہائی کمان سے اس سلسلہ میں منظوری حاصل کریں گے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران کانگریس قائد راہول گاندھی نے کابینہ میں توسیع کو موخر کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے نتیجہ میں اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل توسیع ممکن نہ ہوسکی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی کابینہ میں توسیع کے علاوہ پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے صدر کے انتخاب اور نامزد عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں کانگریس ہائی کمان کی اجازت کے منتظر ہیں۔ ریونت ریڈی کی پردیش کانگریس کی صدارت پر تین سالہ میعاد 7 جولائی کو ختم ہوچکی ہے اور ہائی کمان نے نئے صدر کے انتخاب کیلئے ابتدائی مرحلہ کی مشاورت مکمل کرلی تاہم عہدہ کے دعویداروں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کو ٹال دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی کابینہ میں مخلوعہ 6 نشستوں کو پُر کرتے ہوئے مکمل کابینہ کے ساتھ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ 119 رکنی اسمبلی کے اعتبار سے کابینہ 18 وزراء پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بشمول 12 وزراء نے 7 ڈسمبر 2023 کو حلف لیا تھا اور گذشتہ 8 ماہ میں 6 مخلوعہ وزارتی عہدوں کو پُر کرنے کیلئے ریونت ریڈی نے بارہا مساعی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے اور موجودہ وزراء پر بوجھ کم کرنے کیلئے توسیع ناگزیر ہے۔ کابینہ میں شمولیت کیلئے کئی طبقات نے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش اور علحدہ تلنگانہ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب کابینہ میں مسلم نمائندگی نہیں ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ مجوزہ کابینہ میں توسیع کے موقع پر مسلم نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے دورہ امریکہ سے واپسی کے فوری بعد نئی دہلی روانگی کا منصوبہ بنایا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلہ میں 4 وزراء کو شامل کرتے ہوئے مزید دو نشستوں کو خالی رکھا جائے گا تاکہ تبدیل شدہ سیاسی حالات کے پیش نظر نمائندگی کا فیصلہ کیا جاسکے۔ ابتداء میں ان اضلاع کو نمائندگی دی جاسکتی ہے جہاں سے وزراء شامل نہیں ہیں۔ عادل آباد، نظام آباد، حیدرآباد اور متحدہ رنگاریڈی اضلاع سے کابینہ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ کابینہ میں سماجی انصاف کو یقینی بنانے کیلئے بعض طبقات کو شامل کئے جانے کا امکان ہے۔ مسلم نمائندگی کے علاوہ مدیراج اور لمباڑہ طبقات کی جانب سے کابینہ میں شمولیت کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ ریونت ریڈی نے لوک سبھا چناؤ کی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ مدیراج طبقہ کو کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت کیلئے بی سی، ایس سی اور ایس ٹی طبقات سے تعلق رکھنے والے کئی سینئر قائدین نے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ چیف منسٹر پردیش کانگریس کی صدارت پر ایسے قائد کے انتخاب کے حق میں ہیں جو ان کے بااعتماد ہوں تاکہ پارٹی اور حکومت کے درمیان بہتر تال میل برقرار رہے۔ گذشتہ آٹھ ماہ میں تقریباً 40 سے زائد نامزد عہدوں پر تقررات کئے گئے جن میں مختلف سرکاری کارپوریشن شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین کی ناراضگی دور کرنے کیلئے مزید 20 تا 25 نامزد عہدوں پر تقررات کئے جاسکتے ہیں۔ کابینہ میں توسیع اور دیگر فیصلوں کی راہ میں آشاڈا ماسم رکاوٹ بن چکا تھا جسے تلگو تہذیب کے مطابق منحوس دنوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 15 اگسٹ کے بعد شراونا ماسم یعنی اچھے دنوں کا آغاز ہونے جارہا ہے لہذا کابینہ میں توسیع اور دیگر اُمور کے بارے میں ہائی کمان سے اجازت ملنے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے بعض ارکان نے کابینہ میں شمولیت کی شرط رکھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس ہائی کمان منحرف ارکان کو کابینہ میں شامل کرنے کی اجازت دے گا یا پھر انہیں اہم کارپوریشنوں پر مامور کیا جائے گا۔1

چیف منسٹر کا نیویارک پہنچنے پر شاندار استقبال
’ جئے ریونت انا ‘ کے نعرے، نیویارک میں سرکاری اور خانگی
اداروں کے نمائندوں سے ملاقات
حیدرآباد۔/4 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی امریکہ اور جنوبی کوریا کے 10 روزہ دورہ پر آج نیویارک پہنچ گئے۔ وزیر صنعت ڈی سریدھر بابو اور سینئر عہدیداروں کے ہمراہ چیف منسٹر جیسے ہی نیویارک ایرپورٹ پہنچے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ ’ریونت انا زندہ باد، کے نعروں کے درمیان چیف منسٹر کا استقبال کیا گیا اور انہیں تہنیت پیش کی گئی۔ ریونت ریڈی نے مقامی افراد سے ملاقات کی اور ان سے گلدستے قبول کئے۔ چیف منسٹر کی زیر قیادت ایک ٹیم دونوں ممالک میں سرکاری اور خانگی تجارتی اداروں کے سربراہوں سے ملاقات کرے گی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے دوسری مرتبہ بیرونی دورہ پر ہیں۔ چیف منسٹر کے شیڈول کے مطابق وہ 5 اگسٹ پیر کو دن بھر نیویارک میں 12 مختلف کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے اور تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔ ریونت ریڈی نے نیویارک پہنچنے کے بعد نیوجرسی میں ہندوستانیوں کی جانب سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ شیڈول کے مطابق 6 اگسٹ کو ریونت ریڈی اور ان کی ٹیم کی 6 مختلف اداروں کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی۔ وہ واشنگٹن ڈی سی اور ڈلاس میں تجارتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ وہ ہیوسٹن، نارتھ ٹیکساس کا دورہ کریں گے۔ چیف منسٹر کے 10 روزہ دورہ میں تقریباً 50 ملاقاتوں کا اہتمام رہے گا۔ دونوں ممالک کے سرکاری اداروں کی جانب سے چیف منسٹر کی آمد پر موثر انتظامات کئے گئے ہیں۔1