زائد شرح سود کے نام پر دھوکہ دہی کا بڑا اسکام منظر عام پر

   

سینکڑوں متاثرین کا کنٹرول روم پر دھرنا ، خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : شہر میں زائد شرح سود کے نام پر دھوکہ دہی کا ایک بڑا اسکام آج اس وقت منظر عام پر آیا ۔ جب سینکڑوں متاثرین نے کنٹرول روم پر دھرنا منظم کیا ۔ متاثرین جو اپنے افراد خاندان کے ساتھ موجود تھے ۔ دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی اور نقصان کے ازالہ کے اقدام کا مطالبہ کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ عابڈس علاقہ میں واقع پرینکا انٹرپرائزس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی عوام نے سی سی ایس پر دھرنا منظم کیا ۔ متاثرین کا الزام ہے کہ پرینکا انٹرپرائزس کے ذمہ داروں نے انہیں کروڑہا روپئے کا دھوکہ دیا ۔ دراصل متاثرین اپنی رقم کو ڈپازٹ کرنے کے لیے تلنگانہ اسٹیٹ کوآپریٹیو بنک پہونچے تھے ۔ اس بنک میں جنرل منیجر کی حیثیت سے کام کرنے والی نماگڈہ وانی نے ڈپازیٹرس کو ایک دوسرے ادارہ کا پتہ بتایا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس ادارے میں اپنی رقم جمع کروائیں ۔ جنہیں زائد شرح سود حاصل ہوگا ۔ وانی کی باتوں میں آکر ڈپازیٹرس نے پرینکا انٹرپرائزس کا رخ کیا ۔ ذرائع کے مطابق وانی نے اپنے شوہر نیتاجی اور بیٹے ہرشا کی مدد سے یہ ادارے قائم کیا تھا ۔ اور سب کچھ ایک سونچی سمجھی سازش کے تحت وانی کے عہدے کی آڑ میں کیا گیا تاکہ وانی اپنے عہدے اور اختیارات کا غلط استعمال کرسکے اور اس سے کروڑہا روپئے حاصل کئے جاسکیں اس سازش سے انجان ڈپازیٹرس نے اپنی رقم کو نیتاجی کے ادارے میں جمع کروادیا ۔ ذرائع کے مطابق تقریبا 517 افراد سے دھوکہ دہی کرتے ہوئے تقریبا 200 کروڑ روپئے لوٹے گئے ۔ اس سارے معاملہ میں نماگڈہ وانی کے علاوہ اس کے شوہر اور فرزند کے ملوث ہونے کا الزام ہے ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرلیا ہے ۔۔ ع