سائنس و ٹکنالوجی سے رغبت کیلئے اسکولوں میں سائنس لیابس کا قیام ضروری

   

ملک کے 57 اسکولوں میں لیاب کی سہولت، دہلی اور گوا کے صد فیصد اسکولوں میں سائنس کی تعلیم پر توجہ
حیدرآباد۔3 ۔ستمبر (سیاست نیوز) اسکولوں میں سائنس انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعہ طلبہ کو سائنس و ٹکنالوجی سے رغبت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکولس چاہے سرکاری ہوں یا خانگی ، ان میں سائنس لیباریٹریز کی موجودگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ایک سروے کے مطابق ملک کے 57.6 فیصد اسکولوں میں سائنس لیباریٹری کی سہولت حاصل ہے۔ دہلی اور گوا کا شمار ملک کی ان ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں تقریباً صد فیصد اسکولوں میں سائنس لیاب موجود ہیں۔ بعض ایسی ریاستیں بھی ہیں جہاں محض 30 تا 40 فیصد اسکولوں میں سائنس لیباریٹریز قائم کئے گئے ہیں۔ ملک کی تمام ریاستوں کے اسکولوں میں سائنس لیباریٹریز پر رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق نئی دہلی میں 99.7 فیصد اسکولوں میں سائنس لیاب موجود ہیں جبکہ گوا 98.9 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ 90 فیصد سے زائد اسکولوں میں سائنس لیبارٹریز کی موجودگی والی ریاستوں میں چھتیس گڑھ اور نئی دہلی کے علاوہ گوا نے جگہ پائی ہے۔ 80 تا 90 فیصد سائنس لیابس کی موجودگی والی ریاستوں میں اڈیشہ ، انڈامان نکوبار اور لداخ شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اترپردیش ، بہار ، راجستھان ، گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں اسکولوں میں سائنس لیباریٹریز کی تعداد 50 فیصد سے کم درج کی گئی ہے۔ مہاراشٹرا کے 76.3 اور تلنگانہ کے 70.6 اسکولوں میں سائنس لیاب موجود ہے جبکہ آندھراپردیش میں 58.5 اسکولوں میں طلبہ کیلئے سائنس لیابس دستیاب ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے محکمہ تعلیم کے ذریعہ سرکاری اور خانگی اسکولوں میں سائنس لیباریٹریز کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے ہیں۔ شعبہ تعلیم کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی سطح سے طلبہ کو سائنس و ٹکنالوجی کے شعبہ میں حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم سے متعلق کورسس میں سائنس و ٹکنالوجی کا انتخاب کرسکیں۔1/k/m/b