12 فیصد کے نام پر مسلمانوں سے دھوکہ، تحریک تشکر پر مباحث میں کانگریس ارکان ویریشم اور سرینواس ریڈی کی تقاریر
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث کے دوران کانگریس ارکان نے سابق بی آر ایس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج صبح ایوان کی کارروائی کے آغاز پر کانگریس کے ویمولا ویریشم نے تحریک تشکر پیش کی جس کی کانگریس رکن این سرینواس ریڈی نے تائید کی ۔ الیکشن سے قبل بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے وی ویریشم نے سابق حکومت پر بدعنوانیوں ، اقربا پروری اور بے قاعدگیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں ، دلتوں اور دیگر طبقات کی بھلائی کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بی آر ایس ارکان کی مداخلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بی آر ایس حکومت نے کیا بدعنوانیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے تمام سیاہ کارناموں کو کانگریس حکومت بے نقاب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پرینکا گاندھی کے نام سے خوفزدہ ہے اور لوک سبھا الیکشن میں شکست کے خوف سے پرینکا گاندھی کے دورہ کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ ویریشم نے کہا کہ شکست کے باوجود بی آر ایس قیادت نے سبق نہیں سیکھا ہے ۔ ان کا غرور اور تکبر کا رویہ آج بھی برقرار ہے۔ 10 سال کے وقفہ کے بعد تلنگانہ میں عوامی حکومت قائم ہوئی ہے۔ مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کی تکمیل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں ، دلتوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف کام کیا ہے ۔ ویریشم نے بی آر ایس قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ غرور اور تکبر کو ترک کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کے فیصلہ کو قبول کریں۔ انہوں نے کہا کہ 9 برسوں میں بیروزگار نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم نہیں کی گئیں اور بیروزگاری الاؤنس نہیں دیا گیا۔ تقررات کے امتحانی پرچہ جات کا افشاء ہوا جس میں برسر اقتدار پارٹی سے وابستہ قائدین ملوث تھے۔ ریاستی گورنر کے احترام کا کانگریس دور حکومت میں آغاز ہوا جبکہ بی آر ایس نے خاتون گورنر کی توہین کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے جنوبی تلنگانہ کو خشک سالی کے علاقہ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے عوام سے جن 6 ضمانتوں کا وعدہ کیا ہے ، ان پر بہر صورت عمل کیا جائے گا۔ تحریک تشکر کی تائید کرتے ہوئے سرینواس ریڈی نے کہا کہ کانگریس کے وعدوں کو 420 وعدے کہا جارہا ہے ۔ دراصل سابق میں بی آر ایس کے دو انتخابی منشور 420 ثابت ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ 420 کا مخفف ہندسہ 6 ہوتا ہے جو کے سی آر کا لکی نمبر ہے ۔ بی آر ایس قیادت آج بھی خود کو برسر خدمت تصور کر رہی ہے۔ اقتدار پرگتی بھون اور فارم ہاؤز تک محدود ہوچکا تھا لیکن اب اقتدار سکریٹریٹ سے چل رہا ہے ۔ پرگتی بھون اور سکریٹریٹ کو عوام کیلئے کھول دیا گیا۔ آٹو ڈرائیورس سے ہمدردی کیلئے بی آر ایس قائدین کے آٹو میں سفر پر ریمارک کرتے ہوئے سرینواس ریڈی نے کہا کہ چارٹرڈ فلائیٹ سے بیرونی ملک جانے والے آج آٹو میں سفر کرتے ہوئے ڈرامہ بازی کر رہے ہیں۔ بی آر ایس نے مالدار ریاست کو مقروض بنادیا ہے ۔ 1