سابق صدر کو کرپشن کے الزام میں 20 سال قید

   

لیما: جنوبی امریکی ملک پیرو کی عدلیہ نے پیر کو سابق صدر الیجینڈرو ٹولیڈو کو منی لانڈرنگ اور اوڈبریچٹ کیس میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔یہ فیصلہ نیشنل سپریم کورٹ آف ا سپیشلائزڈ کرمنل جسٹس کی سیکنڈ کالجیٹ کورٹ نے سنایا۔ اس کے ساتھ، ٹولیڈو اوڈبریچٹ کیس میں جیل بھیجے جانے والے چار ملزمان میں سے پہلے سابق صدر بن گئے ہیں۔ یہ مقدمہ لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے رشوت ستانی اور بدعنوانی کے سکینڈلز میں سے ایک ہے ۔سابق صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے برازیل کی تعمیراتی کمپنی اوڈی بریچ سے پیرو اور برازیل کو ملانے والی انٹرو سینک ہائی وے کی تعمیر کے سرکاری ٹھیکے کے بدلے میں تقریباً 20 ملین ڈالر رشوت لی۔ انہیں الزامات کا سامنا کرنے کیلئے گزشتہ سال اپریل میں امریکہ سے حوالگی کیا گیا تھا۔ٹولیڈو نے سماعت کے دوران کہا کہ وہ قصوروار نہیں ہیں۔”میں نے پیرو میں اوڈی بریچ کے سابق سربراہ جارج براتا کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ٹولیڈو 2001 سے 2006 تک صدر کے عہدے پر فائز رہے ۔