سابق چیف سکریٹری کیرالا کا دعویٰ

   

آتے آتے آئے گا اُن کا خیال
جاتے جاتے بے خیالی جائے گی
چیف الیکشن کمشنر مسٹر گیانیش کمار ایک اور تنازعہ میں پھنس گئے ہیں۔ انگریزی روزنامہ کی جانب سے ان کے من مانی فیصلوں اور یکطرفہ ہدایات سے متعلق انکشافات کا تنازعہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور سارے ملک میں اس پر احتجاج کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ کانگریس اور دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ گیانیش کمار بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اب کیرالا کے سابق چیف سکریٹری کے ایک انٹرویو نے ان الزامات کو تقریبا درست ثابت کردیا ہے ۔ کیرالا کے سابق چیف سکریٹری مسٹر ججی تھامسن نے ایک انٹرویو میں دعوی کیا ہے کہ 2016 میں گیانیش کمار نے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ دیا تھا اور پیشکش کی تھی کہ وہ انہیں بی جے پی سے لوک سبھا کا ٹکٹ دلا سکتے ہیں۔ ویسے تو گیانیش کمار کے خلاف لگاتار بی جے پی کے مفاداتکا تحفظ کرنے کا الزام عائد ہوتا رہا ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ بی جے پی کیلئے الیکشن کمیشن میں کام کر رہے ہیں اور حالات اس کیلئے سازگار بنا رہے ہیں۔ ایسے میں مسٹر تھامسن کا انکشاف جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام ہی کریں گے ۔ مسٹر تھامسن کے انٹرویو کے بعد قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے انہیں بی جے پی کیلئے بھرتی کا کام کرنے والا قرار دیا اور کہا کہ نریندرمودی اور امیت شاہ نے انہیں انتخابی فکسنگ کیلئے الیکشن کمیشن میں ذمہ داری سونپی ہے ۔ وہ لگاتار بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر گوشوں سے بھی گیانیش کمار کے خلاف تنقیدیں ہو رہی ہیں اور ملک کی تقریبا تمام اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف احتجاج کی تیاری کر رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے علاوہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا منصوبہ ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سی جے پی 2 اکٹوبر سے ملک گیر سطح پر احتجاج کرسکتی ہے ۔ اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں کا بھی 30 ستمبر کو اجلاس ہونے والا ہے جس میں گیانیش کمار کے خلاف حکمت عملی کو قطعیت دی جائے گی ۔
چیف سکریٹری کیرالا کے اس انکشاف نے گیانیش کمار کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔ حالانکہ انہیں کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے اور یہ صلہ بھی بی جے پی حکومت کی جانب سے انہیں دیا گیا ہے ۔ تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ عوامی سطح پر تحریک اگر شروع ہوگی تو پھر انہیں قانونی تحفظ بھی شائد بچانے میں کامیاب نہیں ہوگا اور ان کو آخری صورت میں اپنے عہدہ سے استعفی پیش کرنا بھی پڑسکتا ہے ۔ ملک میں انتخابی قوانین اور اصولوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بلکہ کھلواڑ کرنا ایک سنگین جرم ہے اور اب یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ بی جے پی چاہتی تھی کہ چیف الیکشن کمشنر اس کے حق میں کام کریں اور اصول و ضوابط اس کے حق میں تیار کریں اور اس کے عوض چیف الیکشن کمشنر کو مستقبل میں کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہوجائے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی بارہا یہ اعلان کرچکے ہیں کہ انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کا بعد میں ضرور تعاقب کیا جائے گا ۔ اس طرح بی جے پی نے گیانیش کمار کی اور گیانیش کمار نے بی جے پی کی مدد کے اقدامات کئے ہیں تاہم اب یہ پردہ فاش ہونے لگا ہے اور دھیرے دھیرے تمام حقائق منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ یہ بات سبھی کو ذہن نشین ر کھنی چاہئے کہ غلط کاریوں کا پردہ کبھی نہ کبھی فاش ہوتا ہی ہے اور غلط کرنے والوں کو اپنے کئے کی سزا بھی ملتی ہے ۔ یہی حالات اب ہندوستان میں پیدا ہو رہے ہیں۔
ججی تھامسن کے انٹرویو نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ کس طرح سے بی جے پی اپنے اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوے اعلی عہدیداروں کو استعمال کر رہی ہے اور اسے قوانین اور اصولوں کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے ۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپنا اقتدار برقرار رکھنا چاہتی ہے اور اس کیلئے جمہوریت کو کھوکھلا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ایسے عہدیداروں کو کسی کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کی بجائے اپنے فرائض کو دیانتداری سے نبھانے اور افسر شاہی کے وقار کو پامال ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے ۔