رجسٹریشن کو شفاف اور کرپشن سے پاک بنانے اقدامات، وزیر مال سرینواس ریڈی کا اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے سب رجسٹرار دفاتر میں کارکردگی بہتر بنانے اور کرپشن کے بغیر عاجلانہ رجسٹریشن کی تکمیل کے لئے سلاٹ بکنگ اور بائیو میٹرک ویریفکیشن متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں رجسٹریشن دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اُنھوں نے کہاکہ سلاٹ بکنگ سسٹم سے دستاویزات کے رجسٹریشن کا وقفہ 45 منٹ سے گھٹ کر 10 تا 15 منٹ ہوجائے گا۔ نئے سسٹم کو تجرباتی طور پر منتخب سب رجسٹرار دفاتر میں اپریل کے پہلے ہفتہ سے متعارف کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ آرٹیفیشل انٹلی جنس اور دیگر عصری ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ سرینواس ریڈی نے کہاکہ عہدیداروں کو سلاٹ بکنگ کے سلسلہ میں سب رجسٹرار دفاتر کی ازسرنو تنظیم جدید کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیر مال نے انتباہ دیا کہ اگر ممنوعہ فہرست میں شامل اراضیات یا جائیدادوں کا رجسٹریشن کیا گیا تو عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ایک مربع گز اراضی بھی اگر غیر قانونی طور پر رجسٹر کی جاتی ہے تو عہدیداروں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ بھو بھارتی کی طرح رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے لئے عصری پورٹل متعارف کیا جائے گا جس کے ذریعہ ممنوعہ جائیدادوں کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر مال نے عہدیداروں سے کہاکہ ایل آر ایس اسکیم پر عمل آوری میں تیزی پیدا کریں تاکہ لاکھوں خاندانوں کو فائدہ حاصل ہو۔ اُنھوں نے ڈسٹرکٹ رجسٹرارس کو ہدایت دی کہ روزانہ ایل آر ایس درخواستوں کا جائزہ لیں اور درخواستوں کو طویل عرصہ تک زیرالتواء نہ رکھیں کیوں کہ عوام گزشتہ دو تین برسوں سے ایل آر ایس کی منظوری کے منتظر ہیں۔ اُنھوں نے قواعد کے مطابق ایل آر ایس اسکیم کی درخواستوں کی یکسوئی کی ہدایت دی۔ وزیر مال نے ڈسٹرکٹ سب رجسٹرار عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ وقفہ وقفہ سے سب رجسٹرار دفاتر کا معائنہ کریں اور خود کو ہیڈکوارٹر تک محدود نہ رکھیں۔ اُنھوں نے کہاکہ رجسٹریشن کے نظام کو مؤثر، شفاف اور بدعنوانیوں سے پاک بنانے کے لئے سلاٹ بکنگ اور بائیو میٹرک سسٹم سے مدد ملے گی۔ اجلاس میں سکریٹری اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن جیوتی بدھا پرکاش، سکریٹری سی سی ایل اے ایم مندا مکرند، سکریٹری آئی ٹی اور 6 زونس کے ڈی آئی جیز اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ 1