l 10 یونیورسٹیز میں ایک بھی مسلم وائس چانسلر نہیں
l تلنگانہ ریاست میں قدیم روایت کو برخاست کرنے کا رجحان مایوس کن
حیدرآباد۔7۔فروری(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ ہمراہ ناانصافی محض بجٹ میں نہیں ہورہی ہے بلکہ منظم انداز میں سرکاری ادارہ ٔ جات میں جہاں اقلیتی عہدیداروں یا نمائندوں کو نمائندگی فراہم کرنے کی روایت کو بھی ختم کردیاگیا ۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں جن ادارو ںمیں مسلم نمائندگی میں کوئی مفاہمت نہیں کی جاتی تھی ان اداروں میں اب مسلم نمائندگی بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں موجود 10 ریاستی جامعات میں ایک بھی مسلم وائس چانسلر موجود نہیں ہے جبکہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں علاقہ تلنگانہ کی 4 جامعات میں کم از کم ایک مسلم وائس چانسلر کے تقرر کو یقینی بنایا جاتا رہا ہے لیکن اب جبکہ تلنگانہ میں 10 یونیورسٹیز ہیں لیکن ایک بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدہ پر کوئی مسلمان موجود نہیں ہے۔ اسی طرح ریاست تلنگانہ میں تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلی مرتبہ تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے قیام کے دوران اس روایت کو برقرار رکھا گیا اور تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں جناب سید متین قادری کو مسلم نمائندہ کے طور پر شامل کیا گیا لیکن ان کی معیاد کی تکمیل کے بعد تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں کوئی مسلم نمائندگی موجود نہیں ہے ۔ اسی طرح تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کے ڈائریکٹرس میں ایک مسلم ڈائریکٹر کی روایت کو بھی تشکیل تلنگانہ کے بعد ایک معیاد کے لئے برقرار رکھاگیا جبکہ دوسری معیاد میں کسی مسلم نمائندہ کو اس ادارہ میں ڈائریکٹر کا عہدہ نہیں دیا گیا۔ تشکیل تلنگانہ کے فوری بعد ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل میں میر کمال الدین علی خان مرحوم کو ڈائریکٹر بنایا گیا تھا اوراس کے بعد کوئی مسلم نمائندگی ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل میں نہیں ہے۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد مسلمانوں سے ہونے والی ناانصافیوں میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی لیکن تشکیل تلنگانہ کے اندرون 8 سال ریاست کے مختلف ادارہ جات میں جہاں آندھرائی قائدین نے مسلم نمائندگی کی فراہمی کی روایات کو برقرار رکھا تھا ان روایات کو بتدریج منظم انداز میں ختم کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اہل افراد کی عدم موجودگی کے سبب حکومت کی جانب سے ایسا کیا جا رہاہے حالانکہ یہ جواز درست نہیں ہے کیونکہ جامعات میں وائس چانسلر کے تقرر کے لئے درکار قابلیت ‘ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل میں ڈائریکٹر کے عہدہ کے لئے اہل عہدیدار‘ تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے لئے اہلیت رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن اس کے باوجود ان اداروں میں مسلم نمائندگی نہ دیا جانا مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے ۔ ان اداروںمیں ان عہدوں پر مسلمانوں کی نامزدگی اور انہیں نمائندگی فراہم کیا جانا کسی ایک فرد کو نمائندگی فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ اگر ان اداروں میں مسلم نمائندوں کو جگہ دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست کے مسلمان اپنے حقوق کے لئے ان سے رجوع ہوسکتے ہیں اور اس نظریہ کے تحت یہ روایت برقرار رکھی گئی تھی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ ریاستی اقلیتی کمیشن کی عدم تشکیل بھی ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود ان امور پر مسلم عوامی نمائندوں کی جانب سے اختیار کی جانے والی خاموشی بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ م