سرکاری دواخانوںمیں ڈاکٹرس کی لاپرواہی کا شاخسانہ

   

اخبار میں شائع نیوز پر انسانی حقوق کمیشن کی از خود کارروائی
حیدرآباد۔/24 فروری، ( سیاست نیوز) سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس کی عدم موجودگی اور مبینہ لاپرواہی کے عام واقعات کا انسانی حقوق کمیشن نے سخت نوٹ لیا ہے۔ اخبار میں شائع خبر پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ عہدیدار نے اس کی وضاحت طلب کی ہے۔ تلگو روز نامہ ’ ساکشی‘ میں شائع خبر پر انسانی حقوق کمیشن نے از خود کارروائی کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور 30 مارچ تک تمام تفصیلات کو پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے اس اقدام پر ریاستی وزیر نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹرس کو لاپرواہی اور خدمات میں کوتاہی پر سخت وارننگ جاری کی ہے اور ڈائرکٹر میڈیکل اینڈ ہیلت ڈپارٹمنٹ نے ضلع سطح پر ڈی ایم اینڈ ایچ او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنے حدود کی تمام تر تفصیلات اور حقیقی صورتحال سے واقف کروانے اور سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس کی عدم دستیابی اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹرس کی خانگی پریکٹس عام بات ہوگئی ہے۔ سرکاری ڈاکٹرس پر اپنے خانگی کلینکس اور دواخانوں پر توجہ دیتے ہوئے خدمات سے لاپرواہی کے الزامات ہیں۔ ایک طرف حکومت سرکاری دواخانوں میں معیاری علاج کو یقینی بنانے کیلئے مثالی اقدامات کررہی ہے تو دوسری طرف ڈاکٹرس اور عملہ کا رویہ تعجب کا سبب بنا ہوا ہے۔ سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس اور عملہ کی خدمات کے متعلق اور ان کی حاضری اور دلچسپی کے تعلق سے امکان ہے کہ اب رپورٹ حاصل کی جائے گی۔ اکثر سرکاری ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس وقت سے پہلے چلے جاتے ہیں ایسی صورت میں انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے سرزنش پر اب ایک، ایک دواخانہ کی رپورٹ اور ہرعملہ کی تفصیلات کو ڈائرکٹر ہیلت نے طلب کرنے کا اقدام کیا ہے اور خاطی عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ ع