سرکاری ملازمت کا جھانسہ، معصوم امیدواروں سے لاکھوں روپے کی لوٹ مار

   

MPHW-ANM جائیدادوں پر تقررات، دلال سرگرم، میرٹ کے امیدوار تشویش میں مبتلا
حیدرآباد۔ 30 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے میڈیکل اینڈ ہیلت ڈپارٹمنٹ میں طویل عرصہ سے زیر التواء ملٹی پریز ہیلت ورکر ایم پی ایچ ڈبلیو (MPHW/ANW) کی جائیدادوں کے لئے جہاں ایک طرف امیدواروں کے سرٹیفکیٹس کی تصدیق کا عمل مکمل ہوچکا ہے وہیں دوسری طرف ریاست بھر میں دھوکہ بازاروں، درمیانی افراد اور دلالوں کے گٹھ جوڑ نے خوفناک شکل اختیار کرلی ہے۔ سرکاری ملازمت دلوانے کا وعدہ اور تقرر نامہ ہاتھ میں تھمانے کے نام پر میرٹ لسٹ میں شامل اور غیر شامل امیدواروں سے لاکھوں روپے کی رقم بٹوری جارہی ہے۔ ریاستی میڈیکل اینڈ ہیلت سرویسیس ریکروٹنمٹ بورڈ (MHSRB) نے جولائی 2023 میں MPHW کی 1,935 جائیدادوں پر تقررات کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں پہلے سے کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ پر کام کرنے والے ملازمین کے لئے 20 فیصد وٹیج کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم تین سال کے طویل عرصہ اور صبر آزما انتظار کے بعد حال ہی میں 1:1.25 کے تناسب سے 2499 امیدواروں پر مشتمل دوسری عارضی میرٹ لسٹ جاری کی گئی۔ اس لسٹ کی روشنی میں سرٹیفکیٹس کی تصدیق کا عمل 16 ستمبر سے شروع ہوکر 28 ستمبر کو اختتام پذیر ہوا۔ اس مرحلے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھوکہ بازوں نے معصوم امیدواروں کو شکار بنانا شروع کردیا۔ میرٹ لسٹ میں شامل ایک غریب امیدوار کو ملازمت کی مستقل تصدیق کا لالچ دے کرمیڈل مین نے 3 لاکھ روپے وصول کرلئے۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون نے رقم کی ادائیگی کے لئے اپنی زرعی اراضی فروخت کردی۔ کریم نگر کے ایک امیدوار کا نام میرٹ لسٹ میں شامل نہ ہونے کے باوجود دلالوں نے اسے ’بیک ڈور انٹری‘ کے ذریعہ ملازمت دلوانے کی امید دلاکر 5 لاکھ روپے ٹھگ لئے۔ رپورٹ کے مطابق اسی علاقے کے ہاسپٹل کے قریب مزید دیگر 4 امیدواروں سے بھاری رقم صول کی گئی۔ محکمہ صحت کے ہی ایک سرکاری فارماسسٹ نے خود دلال بن کر متعدد امیدواروں سے ملازمت کے نام پر لاکھوں روپے جمع کئے ہیں۔ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے دوران کئی ایسے افراد بھی سنٹر پر پہنچ گئے جن کے نام لسٹ میں شامل نہیں تھے۔ محنت اور میرٹ کی بنیاد پر جگہ بنانے والے حقیقی امیدوار اس صورتحال اور کھلے عام ہونے والی وصولیوں سے تشویش اور خوف کا شکار ہیں۔ 2؍F