سماج کے مختلف طبقات کی تائید حاصل کرنے ٹی آر ایس کی کوشش

   

مراٹھا سماج نے ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کیا، بی ونود کمار کو تائیدی قرارداد حوالے
حیدرآباد۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے بلدی انتخابات میں سماج کے تمام طبقات کی تائید حاصل کرنے کی مہم تیز کردی ہے خاص طور پر راجستھان، گجرات اور مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے رائے دہندوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جو زیادہ تر بی جے پی کے ہمدرد بتائے جاتے ہیں۔ نائب صدر نشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے مختلف طبقات سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے انہیں مرکزی عوامی شعبہ کے اداروں کے عہدیداروں اور ملازمین سے ملاقات کی بھی ذمہ داری دی گئی تاکہ مرکز کی جانب سے انہیں خانگیانے کی کوششوں کو انتخابی موضوع بناتے ہوئے ٹی آر ایس کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ ریلویز، بی ایس این ایل، بی ایچ ای ایل اور دیگر عوامی شعبہ کے اداروں کی ملازمین یونینوں سے ربط قائم کیا جارہا ہے۔ اسی دوران بی ونود کمار نے مراٹھا سماج کی نمائندہ شخصیتوں سے ملاقات کی جنہوں نے بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کا یقین دلایا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 3 لاکھ سے زائد مراٹھا رائے دہندے ہیں۔ مراٹھا سماج کی جانب سے ٹی آر ایس کی تائید میں مکتوب ونود کمار کے حوالے کیا گیا۔ مراٹھا سماج کے نمائندوں نے کہا کہ انہوں نے ٹی آر ایس کی تائید کے حق میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا سماج اپنے خرچ سے ٹی آر ایس کارپوریٹر کی کامیابی کیلئے مہم چلارہے ہیں۔ انہوں نے مختلف ڈیویژنوں میں انتخابی مہم کیلئے 5 گاڑیوں کو مشغول کیا ہے۔ مراٹھا سماج کے صدر پرکاش پاٹل، نائب صدور مدن جادھو، نواس نکیم اور سکریٹری ایل کے شنڈے نے ونود کمار کو تیقن دیا کہ گریٹر حیدرآباد کے 21 ڈیویژنوں میں موجود مراٹھا رائے دہندے ٹی آر ایس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعال کریں گے۔ رام گوپال پیٹ، صنعت نگر اور بیگم پیٹ ڈیویژنوں میں اس طبقہ کی آبادی زیادہ اثر رکھتی ہے۔ میلاردیوپلی، رنگاریڈی نگر، جگت گیر گٹہ، عطا پور اور مہدی پٹنم میں بھی ٹی آر ایس کے امیدواروں کی تائید کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کتہ پیٹ، سرورنگر، آر کے پورم، ونستھلی پورم اور حیات نگر ڈیویژنوں میں ٹی آر ایس کے حق میں مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ونود کمار نے مراٹھا سماج کی جانب سے ٹی آر ایس کی تائید پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ان کے مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں انتخابات کے بعد قدم اٹھائے جائیں گے۔