سماجوادی پارٹی یو پی اسمبلی انتخابات کیلئے اپنی حکمت عملی بدلے گی

   

لکھنؤ، 11 مئی (یو این آئی) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج اور انتخابی عمل کے تجزیے کے بعد سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے آئندہ سال اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اب ایس پی سیاسی مشاورتی کمپنیوں کے بجائے اپنے روایتی تنظیمی ڈھانچے اور زمینی کارکنوں پر زیادہ انحصار کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی احتجاجی سیاست کے مقابلے میں ووٹر لسٹ کی نگرانی اور بوتھ سطح کی تیاری پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ پارٹی کے حکمت سازوں کا ماننا ہے کہ صرف جلسے جلوس اور تحریکیں جیت کے لیے کافی نہیں ہوتیں، بلکہ ووٹر لسٹ کی درستگی اور بوتھ مینجمنٹ سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر ووٹر لسٹ پر مسلسل نظر نہ رکھی گئی تو اپوزیشن جماعتوں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ اسی وجہ سے تنظیم کے کارکنوں کو بوتھ سطح پر فعال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران ترنمول کانگریس نے بڑی ذمہ داری پیشہ ور انتخابی ادارے آئی-پیک کو سونپی تھی۔
جبکہ اتر پردیش میں ایس پی نے اپنے کارکنوں کو “پی ڈی اے پہری” بنا کر میدان میں اتارا۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اسی وجہ سے یوپی میں ووٹر لسٹ سے نام کٹنے کے واقعات نسبتاً کم رہے ۔