امام کی برطرفی، سارے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ضرورت نہیں، ہندوستان ایک سیکولر ملک:چیف منسٹر
شملہ : اب جبکہ سنجولی مسجد کی غیرقانونی تعمیر کا معاملہ گزشتہ دو دنوں میں کافی گرما گیا ہے وہیں وقف بورڈ نے بھی اس معاملہ میں غیر ضروری مداخلت کر کے سب کو حیرت زدہ کردیا ہے کیونکہ ہماچل پردیش وقف بورڈ نے خود یہ بیان دیا ہے کہ مسجد کے کچھ منزلے غیرقانونی طور پر تعمیر ہوئے ہیں ۔ یاد رہے کہ وقف بورڈ کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ہماچل پردیش اسمبلی میں ایک مقامی ایم ایل اے نے مسجد کی غیرقانونی تعمیر کا معاملہ اٹھایا تھا ۔ مقامی عوام کے زبردست احتجاج کے بعد شملہ وقف بورڈ نے سنجولی مسجد کے امام صاحب کو بھی برطرف کردیا ہے ۔ قبل ازیں بی جے پی کارکنوں اور بعض ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے مسجد کی تعمیر کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ وقف بورڈ نے علاوہ ازیںمسجد سے ملحقہ کئی دیگر غیر مجاز تعمیرات کو بھی منہدم کردیا ہے جو زیادہ تر شملہ کی مسلم کمیونٹی کی جانب سے تعمیر کئے گئے تھے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مسجد کے خلاف احتجاجی مظاہرے دراصل ایک واقعہ کے بعد کئے گئے،جہاں 30 اگست کی رات کو شملہ کے ملیانہ علاقہ میں رات دیر گئے 37 سالہ وکرم سنگھ نامی شخص کو کچھ مقامی افراد نے زدوکوب کیا تھا جس سے وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا تھا ۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ تمام حملہ آوروں کا تعلق مسلم کمیونٹی سے تھا جس نے ہماچل کے غیر مسلم نوجوانوں کو مشتعل کردیا ۔ ای ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمام حملہ آورو ں نے ایک مسجد میں پناہ لی تھی جنہیں بعد ازاں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا ۔ اس کے بعد مقامی غیر مسلم افراد نے مسجد کو ہی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست مظاہرے کئے ۔ اب سیاسی صورتحال یہ ہے کہ جہاں اپوزیشن سنجولی مسجد معاملہ پر حکمراں جماعت کو نشانہ بنارہی ہے وہیں دوسری طرف ہماچل پردیش کے چیف منسٹر سکھو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مذہبی جذبات کو قابو میں رکھیں اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے ملک کی سالمیت اور سیکولرازم کو ٹھیس ہپنچے ، ہندو ستان ایک سیکولر ملک ہے ۔