سنٹرل حج کمیٹی کی تشکیل کا معاملہ

   

سپریم کورٹ کی مرکز ی حکومت کو سخت ہدایت

نئی دہلی: سپریم کورٹ ٰ نے ایک بار پھر حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے 7 مارچ 2024 تک عدالتٰ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے یہ اطلاع آج جاری ایک ریلیز میں دی گئی ہے۔ ریلیز کے مطابق عدالت عظمیٰ نے ہدایت میں یہ بھی کہا کہ اپریل 2022 کو تشکیل دی گئی 8 رکنی کمیٹی میں ظفرالاسلام ممبر پارلیمنٹ راجیہ سبھا کی حیثیت سے ممبران میں شامل تھے جن کی مدت کافی پہلے ختم ہوچکی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ 9 ممبران صوبائی حج کمیٹیوں سے منتخب ہوتے ہیں ان سبھی ارکان کو پر کیا جائے اور قانون اور ایکٹ کے مطابق پوری کمیٹی بنائی جائے۔آج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی کی عدالت عظمیٰ کی حکم عدولی کی درخواست پر تیسری مرتبہ یہ سماعت ہوئی ۔ اعظمی کے وکلا سنجے آر ہیگڑے اور طلحہ عبدالرحمٰن نے عدالت سے سخت مطالبہ کیا کہ جلد از جلد کمیٹی کی تشکیل ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ اعظمی صاحب کے وکلا نے عدالت عظمیٰ کے سامنے ایک چارٹ خاکہ تحریری طور پر کمیٹی کی تشکیل کے سلسلے میں پیش کیا جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سخت ہدایات جاری کی۔جناب اعظمی نے کہا کہ عدلیہ اس پورے معاملہ میں بہت سنجیدہ رہی اور ہدایت جاری کرتی رہی مگر انتظامیہ نے اب تک غیر سنجید گی کا مظاہرہ کیا ہے جب کہ 20 جون 2020 سے حج کمیٹی آف انڈیا نہیں بنائی گئی تھی اور اپریل 2022 میں خانہ پری کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے 19 رکنی کمیٹی کی جگہ صرف 8 رکنی کمیٹی بنائی اور سرکاری وکیل عدالت کو بار بار یہ کہہ کر گمراہ کرتے رہے کہ کمیٹی بن گئی ہے اور جناب اعظمی کی درخواست خارج کردی جائے مگر ہمارے وکلا قابل مبارک باد ہیں کہ انھوں نے اس معاملہ پر شدت سے پیروی کی اور معاملہ کو یہاں تک پہنچایا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڈکی سربراہی والی بنچ میں شامل جسٹس جیبی پارڈی والا اور جسٹس ستیش چندر شرما نے یہ ہدایت مرکزی حکومت کو 25 جنوری کو جاری کی تھی۔ سنٹرل حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی کی کوششوں کے نتیجہ میں سپریم کورٹ نے حج کمیٹی کے سلسلہ میں یہ اہم فیصلہ سنایا ہے ۔