پارٹی کیڈر مجالس مقامی کے چنائو کے لیے تیار ہوجائے، عادل آباد میں توسیعی اجلاس، دیپا داس منشی کی شرکت
حیدرآباد : 6 جنوری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے دورۂ اضلاع کے سلسلہ میں عادل آباد میں پارٹی کے توسیعی اجلاس میں شرکت کی اور قائدین اور کارکنوں کو مجالس مقامی کے انتخابات کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا۔ عادل آباد لوک سبھا حلقہ کے توسیعی اجلاس میں جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی، متحدہ عادل آباد ضلع کی انچارج وزیر ڈی اناسویا سیتاکا کے علاوہ ارکان اسمبلی اور کونسل اور مجالس مقامی کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس کے آغاز پر سابق وزیراعظم آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج پیش کیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کارکنوں کی محنت کے نتیجہ میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا ہے۔ 10 برس تک کارکنوں نے محنت اور مشقت کی اور بی آر ایس حکومت کے مقدمات کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ایک خاندان کی طرح ہے جس میں مسائل کا ہونا فطری امر ہے لیکن قائدین اور کارکنوں کو باہمی تال میل کے ذریعہ پارٹی کے استحکام پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سنکرانتی تہوار کے بعد کانگریس قائدین کے لیے خوش خبری رہے گی۔ نامزد سرکاری عہدوں پر تقررات کئے جائیں گے جس میں حقیقی کارکنوں اور قائدین کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں صد فیصد نشستوں پر کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیڈر کو ابھی سے متحرک ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کے انتخاب میں ترجیح ایسے قائدین کو دی جائے گی جو کارکنوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو ماہ میں پنچایت راج اور مجالس مقامی کے انتخابات منعقد ہوں گے اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کی بنیاد پر کانگریس کو شاندار کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار سے محرومی کے بعد بی آر ایس قائدین ذہنی توازن کھو چکے ہیں اور عوام کے درمیان حکومت کے خلاف بے بنیاد پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس رکن کونسل کویتا سے سوال کیا کہ وہ کیا صورت لے کر عوام کے درمیان آرہی ہیں۔ 10 سالہ اقتدار کے دوران متحدہ عادل آباد ضلع کو نظرانداز کردیا گیا، اس وقت کویتا کہاں تھی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش کے 16 چیف منسٹرس نے جس قدر قرض حاصل کیا تھا، کے سی آر نے ان تمام سے زیادہ قرض حاصل کیا ہے۔ 10 سال میں 7 لاکھ کروڑ قرض حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ کو معاشی طور پر کمزور کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور مالی موقف کے باوجود ریونت ریڈی حکومت انتخابی وعدوں کی تکمیل میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی متحدہ عادل آباد ضلع میں فرقہ وارانہ سیاست کے ذریعہ عوام کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو ناکام بنائیں۔ سماجی انصاف کی فراہمی کے لیے تلنگانہ میں طبقاتی سروے کا اہتمام کیا گیا جس کا 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع کے مسائل جاننے کے بعد وہ چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے۔ ایک سال میں حکومت نے 55 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ عادل آباد میں جلد ہی نیا ایرپورٹ قائم کیا جائے گا۔1