امریکہ 8133 ٹن کے ساتھ سرفہرست، ہندوستان میں 880 ٹن سونے کے ذخائر
حیدرآباد 26 مئی (سیاست نیوز) عام طور پر کسی بھی ملک کی خوشحالی کا اندازہ ملک میں سونے کے ذخائر سے لگایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں معاشی بحران کا ایک مرحلہ وہ بھی گزرا جب ملک کے سونے کے ذخائر کو رہن رکھنے پر مجبور ہوا پڑا تھا۔ ویسے مہنگائی اِن دنوں کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ جب کبھی عالمی تیل کی منڈی میں قیمتوں میں اُچھال آتا ہے، بیشتر ممالک مہنگائی کی شرح میں اضافہ کا اعلان کرتے ہیں۔ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے کیوں کہ سامان کی منتقلی اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات ازخود بڑھ جاتے ہیں۔ سونے کے ذخائر کے معاملہ میں امریکہ کا شمار دنیا کے معاشی طور پر خوشحال ممالک میں ہوتا ہے جہاں سونے کا ذخیرہ 8100 ٹن ہے۔ جرمنی میں حکومت کے پاس سونے کا ذخیرہ 3350 ٹن بتایا جاتا ہے اور وہ خوشحال ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اٹلی میں 2452 ٹن جبکہ فرانس 2437، روس 2333 ٹن اور چین میں 2292 ٹن سونا موجود ہے۔ سونے کے ذخائر کے اعتبار سے دنیا کے جن 10 ممالک کا سروے میں انتخاب کیا گیا اُن میں ہندوستان آٹھویں نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں سونے کے ذخائر 880 ٹن بتائے جاتے ہیں جبکہ جاپان اور ترکی میں ہندوستان سے کم سونا موجود ہے۔ جاپان میں 846 اور ترکیہ میں 624 ٹن سونا موجود ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور چین معیشت کو بہتر بنانے کے لئے طویل مدتی حکمت عملی کے تحت سونے کے ذخائر میں اضافہ کررہے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق ممالک کی خوشحالی اور بینکوں کے استحکام کا اندازہ سونے کے ذخائر سے کیا جاسکتا ہے۔V/1/k/b