25.5 ٹن ملاوٹی گھی ‘ 8.7 ٹن کریم ‘ پام آئیل اور دیگر اشیاء کی ضبطی ۔ کمشنر پولیس سجنار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد18 اگست (سیاست نیوز ) سٹی پولیس نے شہر میں 130 تجارتی اداروں کے خلاف کارروائی کرکے ملاوٹی گھی کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضہ سے 25.5 ٹن ملاوٹی گھی اور دیگر اشیاء برآمد کرلئے۔ پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بتایا کہ یہ کارروائی (H-FAST) نے فوڈ سیفٹی محکمہ کے ساتھ کی۔ انہوں نے بتایا کہ غذائی ملاوٹ عوامی صحت کیلئے سنگین خطرہ ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ضبط شدہ مال میں 25.5 ٹن ملاوٹی گھی، 8.7 ٹن کریم، 1,200 لیٹر پام آئل، 600 لیٹر ونسپتی، 30 کلو اسٹارچ اور 6 بوتلیں مصنوعی گھی کے ذائقے شامل تھیں۔ فوڈ سیفٹی افسران نے لیبارٹری تجزیے کیلئے نمونے جمع کئے۔ ضبط مال مزید قانونی کارروائی کیلئے فوڈ سیفٹی محکمہ کے حوالے کر دیا گیا۔کمشنر پولیس سجنار نے کہا کہ ملاوٹ کی سطح 10 فیصد سے 40 فیصد تک تھی اور مصنوعات مختلف صارفین کو سپلائی کی جاتی تھیں۔ یہ مصنوعات دیپم/پوجا گھی کے طور پر اور ریسٹورینٹس، ٹفن سنٹرز، مٹھائی دکاندار، بیکریوں، کیٹررز اور آیورویدک دکانوں کو سپلائی کی گئیں۔ پولیس نے کہا کہ ملاوٹی گھی ڈیری شاپس اور ہوٹلوں، بشمول اسٹار ہوٹلوں کو بھی سپلائی کیا گیا۔کئی ملاوٹی اشیاء کو بوتلوں میں پیک کر کے 100 فیصد خالص گھی، پریمیم گھی، فارم فریش گھی اورنیچرل گھی جیسے لیبل لگائے گئے ۔ سجنار نے کہا کہ معائنہ کئے گئے فوڈ پیکٹس پر بیچ یا لاٹ نمبر، FSSAI لائسنس کی معلومات، تجزیے کا سرٹیفکیٹ اور تیاری، پیکنگ اور ایکسپائری یا استعمال کی تاریخ جیسی لازمی تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ پولیس کے مطابق اس مبینہ آپریشن میں بین ریاستی خریداری کا سلسلہ تھا۔ تیاری میں استعمال ہونے والی کریم مہاراشٹر، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، کرناٹک اور ٹاملناڈو کے سپلائرز سے منگوائی گئی تھی۔ پولیس نے کہا کہ مینوفیکچررز سستے اجزاء سے اصل دودھ کی چکنائی کو تبدیل کر کے کم لاگت پر مصنوعی گھی تیار کرتے تھے اور پھر اسے اصل گھی کے نام پر فروخت کرتے تھے ۔یہ مصنوعات تلنگانہ و پڑوسی ریاستوں میں تقسیم کی گئیں۔ پولیس نے کہا کہ ریفائنڈ پام آئیل، پام کرنل آئیل اور پامولین و مختلف کیمیائی اضافہ اور مصنوعی ذائقے استعمال کر کے اصل گھی کی نقل تیار کی گئی جو صحت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ پولیس کے مشورہ کے مطابق، زیادہ ٹرانس فیٹ والی اشیا کے طویل استعمال سے LDL کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے اور دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ افسران نے بعض اضافہ سے ہاضمے، جگر، گردے، جلد اور میٹابولک مسائل کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔ تاہم، پولیس نے کہا کہ آپریشن کے دوران جمع نمونوں کی لیباریٹری جانچ ہوگی جو ملاوٹ کی درست نوعیت اور حد کا تعین کرے گی۔ مسٹر سجنار نے صارفین سے ڈیری اشیاء خریدتے وقت احتیاط کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ صارفین کو سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھی، دودھ اور دیگر ڈیری اشیاء صرف معروف اور لائسنس یافتہ وینڈرز سے خریدیں اور یقینی بنائیں کہ پیکجنگ پر ٹیمپر پروف سیل، مکمل مینوفیکچرر تفصیلات اور درست FSSAI لائسنس موجود ہو۔ پولیس نے صارفین کو مشکوک سستے یا بغیر برانڈ کے کھلے گھی خریدنے سے بھی خبردار کیا اور بغیر سرٹیفیکیشن والے فوڈ آؤٹ لیٹس سے مٹھائیاں اور ڈیری اشیاء کی خریدی سے گریز کا مشورہ دیا۔بk/