سپریم کورٹ میں ناگیندر کو جھٹکہ، اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی کا فیصلہ برقرار

   

سماعت کے مرحلہ میں چیف جسٹس سوریا کانت نے درخواست کو مسترد کردیا
آیا رام گیا رام کا معاملہ ، جسٹس باگچی کا ریمارک، پارٹی بدل کر الیکشن لڑنا انحراف کا ثبوت

حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس سے منتخب ہوکر کانگریس میں شامل ڈی ناگیندر کو آج سپریم کورٹ سے اس وقت جھٹکہ لگا جب عدالت نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کیخلاف ناگیندر کی اپیل کو سماعت کے مرحلہ میں مسترد کردیا۔ چیف جسٹس سوریا کانت ، جسٹس جے باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کے ڈی ناگیندر کو اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل قرار دینے کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس کی زیر قیادت بنچ نے ناگیندر کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’آیا رام گیا رام‘‘ معاملہ سے تعبیر کیا۔ جسٹس باگچی نے سماعت کے دوران زبانی طور پر ازراہ مذاق ریمارک کیا کہ آپ کا کیس تو ’’آیا رام گیا رام پھر آیا رام ‘‘ کی طرح ہے۔ عام طور پر یہ جملہ ایک سے زائد مرتبہ پارٹیوں کو تبدیل کرنے والے افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے ناگیندر کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ اپریش کمار سنگھ کی زیر قیادت بنچ نے اپنے فیصلہ میں ڈی ناگیندر کو انحراف کیلئے قصوروار تسلیم کیا اور 23 اپریل 2024 سے اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا۔ بی آر ایس ٹکٹ پر اسمبلی کیلئے منتخب ہونے کے بعد ناگیندر نے 2024 میں کانگریس کے ٹکٹ پر سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کیا تھا۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی کوشک ریڈی اور بی جے پی رکن مہیشور ریڈی نے ہائیکورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے اسپیکر اسمبلی پرساد کمار کے احکامات کو چیلنج کیا جس میں انہوں نے ناگیندر کیخلاف شکایتوں کو نامنظور کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اسپیکرکے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قانون عوامی نمائندگان کے دسویں شیڈول کے تحت انہیں نااہل قرار دیا تھا۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد ضمنی چناؤ سے بچنے کیلئے ناگیندر سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے لیکن انہیں مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد خیریت آباد اسمبلی حلقہ میں ضمنی چناؤ یقینی ہوچکا ہے۔1/k