آسام کی عدالت سے رجوع ہونے کی اجازت، تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک
حیدرآباد ۔15۔ اپریل (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں اے آئی سی سی ترجمان پون کھیرا کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت پر حکم التواء جاری کردیا ہے ۔ آسام پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کو چیلنج کیا۔ چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ کے پاس تین ممالک کے پاسپورٹ ہونے کے الزام کے بعد پولیس نے پون کھیرا کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اتل ایس چندرورکر پر مشتمل بنچ نے عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے پون کھیرا کو نوٹس جاری کی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اگر پون کھیرا نے آسام کی کسی عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی ہے تو سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کا نفاذ نہیں ہوگا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے آسام حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ سے ضمانت کیلئے رجوع ہونا درست نہیں ہے جبکہ مقدمہ آسام میں درج کیا گیا ہے۔ تشار مہتا نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اس بات کو فراموش کردیا کہ جس جرم کا پون کھیرا نے ارتکاب کیا ہے ، اس میں 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ جسٹس مہیشوری نے کہا کہ پون کھیرا نے عدالت کو بتایا کہ ان کی اہلیہ حیدرآباد میں قیام کرتی ہیں جبکہ سالسیٹر جنرل نے آدھار کارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پون کھیرا کی اہلیہ دہلی میں قیام کرتی ہیں۔ تشار مہتا نے کہا کہ پون کھیرا نے ہائی کورٹ کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی ضمانت پر حکم التواء جاری کردیا۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جسٹس کے سوجنا نے 10 اپریل کو ایک ہفتہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پون کھیرا کو دھکا لگا ہے اور انہیں ضمانت کیلئے آسام کی کسی عدالت سے رجوع ہونا پڑے گا۔ آسام کی پولیس ٹیم نے نئی دہلی اور حیدرآباد میں پون کھیرا کی گرفتاری کیلئے مساعی کی لیکن وہ پون کھیرا تک نہیں پہنچ سکے۔1/k/m/b