آتشزدگی واقعہ کی تفصیلات جاننے کی کوشش، حکومت پر حقائق کی پردہ پوشی کا الزام
حیدرآباد 4 فروری (سیاست نیوز) کانگریس قائدین کو آج اُس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ نئے سکریٹریٹ میں آتشزدگی واقعہ کا جائزہ لینے کے لئے گاندھی بھون سے روانہ ہورہے تھے۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر، نائب صدر پردیش کانگریس ڈاکٹر ملو روی، ورکنگ پریسڈنٹ انجن کمار یادو، خیریت آباد ضلع کانگریس کے صدر ڈاکٹر روہن ریڈی، انیل کمار یادو اور دیگر قائدین سکریٹریٹ کے لئے روانہ ہورہے تھے کہ پولیس نے گاندھی بھون کے باب الداخلہ پر روک لیا۔ کانگریس قائدین اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا اور اُنھیں گوشہ محل پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ محمد علی شبیر اور پولیس عہدیداروں کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپوزیشن قائدین کو سکریٹریٹ کے معائنے کی اجازت دینی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ زیرتعمیر عمارت میں آتشزدگی کا یہ بڑا واقعہ پیش آیا ہے، اِس بارے میں حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے۔ پولیس نے کہاکہ سکریٹریٹ کے معائنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا قائدین کو حراست میں لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اِس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے الزام عائد کیاکہ کے سی آر حکومت آتشزدگی واقعہ کو ماک ڈرل کا نام دے کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 6 ہزار کروڑ کی عوامی رقومات سے تعمیر کئے جانے والے نئے سکریٹریٹ کو آتشزدگی واقعہ سے بھاری نقصان ہوا ہے۔ چونکہ یہ ایک عوامی عمارت ہے لہذا عوام کو اختیار ہے کہ وجوہات کے بارے میں معلوم کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ اپوزیشن قائدین کو حادثہ کے مقام کا معائنہ کرنے سے روکتے ہوئے بی آر ایس حکومت حقائق کو چھپانا چاہتی ہے۔ تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب ماک ڈرل ایک زیرتعمیر عمارت میں کیا گیا اور وہ بھی رات دیر گئے 3 بجے یہ تجربہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آگ اِس قدر شدید تھی کہ 11 فائر انجنوں کو طلب کرنا پڑا۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ چیف منسٹر کے سی آر کے اشارہ پر پولیس عہدیدار آتشزدگی واقعہ کو ماک ڈرل قرار دے رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ سکریٹریٹ کی عمارت کے بارے میں انتہائی رازداری برتنے کی کیا وجوہات ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ قدیم عمارتوں کے انہدام اور نئی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں اپوزیشن کو بے خبر رکھا گیا۔ سنگ بنیاد تقریب میں اپوزیشن قائدین کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر حکومت نے 2 مساجد اور ایک مندر کو منہدم کیا ہے تاکہ اپنے توہمات کو پورا کیا جاسکے۔ عبادتگاہوں کے انہدام کی حکومت کو بددُعا لگی ہے۔ ر