سکھ فوجی پاکستان کیخلاف لڑنے سے انکار کر دیں: گرپتونت سنگھ

   

واشنگٹن : سکھ قائد گرپتونت سنگھ نے ہندوستان کے سکھ فوجیوں سے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف نہ لڑو، مودی کی جہالت کو ’’نا‘‘ کر دو۔ ہندوستان سکھ فوجیوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے۔ مودی سرکاری ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کوئی نئی بات نہیں۔ پچیس سال قبل چھتیس سنگھ پورہ میں سکھوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس وقت واجپائی وزیراعظم تھے۔ امریکی صدر کلنٹن ہندوستان کے دورے پر تھے۔ کلنٹن کی ہندوستان موجودگی کے وقت پانچ مقامی افراد کو پاکستانی دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا گیا۔ سی بی آئی نے 2006ء میں تسلیم کیا کہ مارے گئے پانچوں مقامی افراد بے گناہ تھے۔ چھتیس سنگھ پورہ آپریشن کو لیڈ کرنے والے ہندوستانی فوج کے کیپٹن نے کئی سال تک مفرور رہنے کے بعد مجھے امریکہ میں ملاقات کے دوران سانحہ کے حقائق بتائے۔ کیپٹن (ریٹائرڈ) راٹھور نے کہا کہ میں ہندوستانی فوج کے فائرنگ اسکواڈ کو لیڈ کر رہا تھا۔ ہمیں 20 مارچ 2000ء چھتیس سنگھ پورہ میں سکھوں کو مارنے کے احکامات ملے۔ سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ وہاں ہم مجاہدین کے روپ میں پہنچے۔ مظفر آباد آزاد کشمیر میں بھیس بدل کر خفیہ مشن پر تھا۔ بی جے پی حکومت بل کلنٹن کو یہ باور کرانا چاہتی تھی کہ پاکستان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔