سہارنپور میں مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر شہید کردیا گیا

,

   

عدالت نے انہدام کے احکام جاری کئے تھے ۔ سماجوادی ایم پی اقراء حسن کو دورہ کرنے سے روک دیا گیا

سہارنپور 5 ستمبر ( ایجنسیز ) اترپردیش کے سہارنپور میں ایک مسجد کو غیر مجام قرار دیتے ہوئے شہید کردیا گیا ۔ یہ مسجد سہارنپور ضلع کلکٹریٹ کے احاطہ میں موجود تھی ۔ کہا گیا ہے کہ ایک عدالت کی جانب سے مسجد کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا جس کے بعد ضلع انتظامیہ کی جانب سے بھاری پولیس جمیعت کی نگرانی میں مسجد کو شہید کردیا گیا ۔ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ سینئر انتظامی عہدیدار بشمول ضلع مجسٹریٹ اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ بھی اس مقام پر پہونچ گئے تھے جب بلڈوزرس کے ذریعہ مسجد کو شہید کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ کلکٹریٹ کامپلکس کو انتہائی سخت پولیس جمیعت کے ساتھ گھیرے میں لے لیا گیا تھا ۔ پی اے سی کے اہلکاروں کو متعین کردیا گیا تھا اور کلکٹریٹ کے تمام گیٹس کو بند بھی کردیا گیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ سہارنپور کے ضلع مجسٹریٹ نے گدشتہ مہینے اس مسجد کو غیر قانونی قرا دیا تھا اور اس کو منہدم کرنے کے احکام جاری کئے تھے ۔ مسجد کی شہادت کے نتیجہ میں سہارنپور کے مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی ۔ اس دوران سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقراء حسن کو اس مقام کا دورہ کرنے سے روک دیا گیا ۔ اقراء حسن نے کہا کہ انہیں گھر پرنظربند کردیا گیا جب وہ سہارنپور جانے کیلئے نکل رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بھاری پولیس فورس کو ان کی قیامگاہ کے باہر کل رات ہی سے متعین کردیا گیا تھا اور انہیں سہارنپور جانے سے روک دیا گیا ۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیرانہ میں ان کی قیامگاہ کے باہر رات سے ہی بھاری پولیس فورس کو متعین کردیا گیا تھا اور انہیں سہارنپور جانے سے روکنے کیلئے گھر پر نظربند کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حلقہ کے عوام کی تشویش دور کرنے کیلئے وہاں جانا چاہتی تھیں تاہم انہیں گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی نمائندے عوام کی آواز اٹھانے کیلئے منتخب کئے جاتے ہیں۔ انہیں روک کر اس آواز کو کچلا نہیں جاسکتا ۔ حکام کا دعوی ہے کہ سٹی مجسٹریٹ کے احکام کو چیلنج کرنے کیلئے ضلع جج کی عدالت میں مسجد کمیٹی نے ایک درخواست دائر کی تھی تاہم اسے بھی مسترد کردیا گیا تھا جسپر بعد یہ کارروائی کی گئی ہے ۔