سی ای او تلنگانہ وقف بورڈ کیلئے 12 عہدیداروں کے ناموں کی فہرست

   


حکومت سے بورڈ کو عہدیداروں کی منظوری دینے کا مشورہ
حیدرآباد۔25۔نومبر(سیاست نیوز) حکومت نے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر تقرر کی اہلیت کے حامل 12 عہدیداروں کے نام تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو روانہ کردئیے ہیں۔ چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر مستقل عہدیدار کے تقرر کے سلسلہ میں اب تک یہ کہاجارہا تھا کہ ریاستی حکومت کے پاس ڈپٹی سیکریٹری رینک کا کوئی عہدیدار موجود نہیں ہے جو کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر خدمات انجام دے سکے۔ وقف بورڈ کی جانب سے موجودہ سی ای او جناب شاہنواز قاسم آئی پی ایس کی خدمات کو حکومت کے حوالہ کرنے کے فیصلہ کے بعد حکومت سے طلب کئے گئے ناموں پر ریاستی حکومت کے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن نے جو نام وقف بورڈ کو روانہ کئے ہیں ان میں 8 آئی اے ایس کیڈر آفیسرس کے نام شامل ہیں جبکہ 4 نان کیڈر عہدیداروں کے نام روانہ کئے گئے ہیں جن میں کم ازکم دو عہدیداروں کے ناموں کو ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے منظوری دیتے ہوئے حکومت کور وانہ کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے اور حکومت ان دو ناموں میں سے کسی ایک عہدیدار کو بہ حیثیت چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے طور پر تقرر عمل میں لائے گی۔ سی ای او کے لئے اہلیت رکھنے والے عہدیداروں کے ناموں میں جناب محمد عبدالعظیم آئی اے ایس‘ جناب سرفراز احمد آئی اے ایس‘ جناب محمد مشرف علی فاروقی آئی اے ایس‘ محترمہ عائشہ مسرت خانم آئی اے ایس محترمہ شیخ یاسمین باشاہ آئی اے ایس‘ جناب شیخ رضوان باشاہ آئی اے ایس‘ جناب مزمل خان آئی اے ایس کے علاوہ جناب فیضان احمد آئی اے ایس کے نام بطور کیڈر آفیسر روانہ کئے گئے ہیں جبکہ جناب عبدالحمید اسپیشل گریڈ ڈپٹی کلکٹر ‘جناب منان فاروقی اڈیشنل سیکریٹری ‘ جناب محمد اسد اللہ اسپیشل گریڈ ڈپٹی کلکٹر کے علاوہ ٹی ایس جینکو میں خدمات انجام دے رہے ڈاکٹرمحمد صفی اللہ کے نام شامل ہیں۔ محکمہ جنرل اڈمنسٹریشن کی جانب سے روانہ کردہ نان کیڈر عہدیداروں کے ناموں میں شامل جناب محمد عبدالحمید‘ جناب محمد اسد اللہ اور جناب منان فاروقی سابق میں وقف بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ڈاکٹر محمد صفی اللہ ڈپٹی چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے مطابق حکومت کو 16ڈسمبر سے قبل مستقل سی ای او کے تقرر کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔م