شاہد زبیری کی کتاب ’باتیں ملاقاتیں ‘کا اجرا

   

نئی دہلی: جب تک صحافت میں شاہد زبیری جیسے بے باک ، ایماندار اور حساس صحافی موجود ہیں اردو کی عظمت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آ سکتی کیوں کہ کسی زبان کی بقا کا انحصاراس زبان کے قارئین پر ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ملک کو آزاد ہوئے 76 سال ہو گئے ہیں۔‘ ہندی’ ملک کی قومی زبان ضرور بنی، مگر ‘راجیہ بھاشا’ اب تک نہیں بن سکی ،جب تک اردو پڑھنے والے اس ملک میں رہیں گے ،اس کی عظمت کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ ان خیالات کا اظہارمہمان خصوصی سابق وائس چانسلر پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے جامعہ نگر واقع تسمیہ آڈیٹوریم میں ہمالیہ ڈرگس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید فاروق احمد کی سرپرستی میں ‘باتیں ملاقاتیں’ کے رسم اجراکے موقع پر کیا۔انھوں نے کہا کہ شاہد زبیر ی نے اپنی کتاب میں تمام مکتب فکر خاص طور پر خواتین کی نمائندگی کو شامل کیا ہے ، اس سے ان کی وسیع ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ، اس سے ان کی وسیع ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے مصنف سے یہ بھی درخواست کی کہ جس طرح سے انٹرویو پر مبنی کتاب آج ہمارے سامنے ہے ، شاہد زبیری کے مضامین کا مجموعہ بھی آنا چاہیے ۔