شطرنج : ذہنی و دماغی صلاحیتوں کی آزمائش کا کھیل

   

حیدرآباد: شطرنج یا Chess دو کھلاڑیوں کے درمیان ایک مربع تختے پر کھیلا جانے والا ذہنی و دماغی صلاحیت کی آزمائش کا کھیل ہے۔ یہ کھیل جنوبی ایشیا میں ہندوپاک برصغیر کے خطہ میں ایجاد اور تخلیق کیا گیا تھا۔ یہ کھیل ذہنی حکمت عملی پر مبنی ہوتا ہے۔ اِس کا قدیم نام چَترنگ تھا، جو سنسکرت کے الفاظ ’’چتو+رانگا‘‘ بہ معنی ’’چار+بازو‘‘ سے نکلا ہے۔ چونکہ عربی میں ’چ‘ اور ’گ‘ کے حروفِ تہجی نہیں ہوتے، اِس لیے اِسے عربی میں شطرنج کہا جانے لگا۔ شطرنج دیگر علوم و فنون کی طرح قوموں کی ترقی و تمدن کا میزان ہے۔ گزشتہ تہذیبوں میں اس کھیل کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ مشرق میں ہندوستان اس کھیل کی جائے شروعات ہے، تاہم ، بعض دیگر دعوؤں کے مطابق مصر، چین یا ایران میں یہ کھیل ایجاد ہوا۔ شطرنج کا کھیل اور اس کے قواعد و ضوابط مختلف ادوار میں تبدیل ہوتے رہے، آج جن اصول و قواعد کے ساتھ شطرنج کھیلا جاتا ہے اسے معاصر شطرنج کہتے ہیں۔ دسویں صدی میں بغداد سے تعلق رکھنے والے ابو بکر الصولی اپنے وقت کے ماہر ترین کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔ اب شطرنج کی مہارتیں ایشیا سے یورپ و امریکہ میں منتقل ہو گئی ہیں۔ شطرنج کے تختے کو 64 چوکور خانوں میں بانٹا جاتا ہے، یہ خانے اکثر دو مختلف رنگوں (مثلاً سفید اور سیاہ) میں تقسیم ہوتے ہیں۔ شطرنج کے اِس تختے کو بساط کہتے ہیں اور یہ دیگر کھیلوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً ڈرافٹس۔ نانچہ شطرنج کی اِس بساط کے ہر سِمت 8 خانے ہوتے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کو کھیل کے آغاز میں الگ الگ 16 مہرے دیئے جاتے ہیں، جن میں ایک بادشاہ، ایک وزیر، دو فیلے یا ہاتھی، دو گھوڑے، دو رخ اور آٹھ پیادے شامل ہوتے ہیں۔ بساط کے خانوں کی طرح مہروں کے بھی دو مختلف رنگ (مثلاً سفید اور سیاہ) ہوتے ہیں۔ کھیل جیتنے کیلئے مخالف کھلاڑی کے بادشاہ کو شہ مات (یا مات) دینا ہوتا ہے۔ مخالف بادشاہ کو مات کرنا ہی کھیل کا مقصد ہوتا ہے۔ بادشاہ کو براہ راست مارا نہیں جاتا۔ البتہ بادشاہ کو شہ دے کر اس کو چاروں طرف سے اس طرح گھیر لینا کہ بادشاہ کے شہ سے نکلنے والے ممکنہ اردگرد کے تمام قریبی خانے مخالف مہروں کی زد پہ ہوں اور کسی صورت بادشاہ کو شہ سے نکالنا ممکن نہ ہو تو بادشاہ مات یعنی شہ مات ہو جاتا ہے اور شہ مات کرنے والا کھلاڑی ونر قرار پاتا ہے۔ لیکن اگر بادشاہ کو گھیر لے مگر شہ نہ ہو اور کوئی مہرہ بھی حرکت نہ کر سکے تو پات ہو جائے گی۔ یعنی بغیر ہار جیت کے کھیل ختم ہو جاتا ہے۔ 600ء میں یہ کھیل برصغیر میں متعارف ہوا۔ پھر یہ کھیل فارس میں کھیلا جانے لگا ،پھر عرب مسلمانوں نے اسے مسلم ملکوں میں عام کیا۔ یہ 1600ء میں یورپ میں متعارف کیا گیا۔ اور آج یہ دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں کھیلا جاتا ہے۔ یا تو لوگ شطرنج کے تختے پر کھیلتے ہیں یا آن لائن کھیلتے ہیں۔ہر کھلاڑی کے پاس ترتیب وارایک بادشاہ King ،ایک وزیر Queen ، دو ہاتھی Bishop ،دو گھوڑے Knight، دو رُخ Rook ،آٹھ سپاہی یا پیادے Pawn ہوتے ہیں۔ اور یہ فوج یا لشکر بھی عموماً سفید اور سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ مہرے خاص ترتیب سے بساط پر رکھے جاتے ہیں۔