شمس آباد میں رات بھر کھلے رہنے والے پبس پر کانگریس کارکنوں کا دھرنا

   

رات 3 بجے تک شراب کی سربراہی، پولیس کی ملی بھگت کا الزام

حیدرآباد۔/5 جون، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں پب کلچر میں اضافہ اور جرائم کے واقعات کے پس منظر میں کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی کارکنوں نے شمس آباد میں 2 ایسے پبس پر احتجاج منظم کیا جہاں مقررہ اوقات کے بعد بھی رات دیر گئے گاہکوں کو شراب سربراہ کی جارہی تھی۔ حیدرآباد انٹر نیشنل ایرپورٹ کامپلکس میں واقع 2 پبس کا رات تقریباً 3 بجے این ایس یو آئی کے ریاستی صدر بی وینکٹ کی قیادت میں کارکنوں نے بڑی تعداد میں اچانک پہنچ کر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایر پورٹ پر واقع پبس میں صرف بین الاقوامی مسافرین کو سرویس دی جاسکتی ہے لیکن وہاں عام لوگوںکیلئے رات بھر سرویس جاری ہے۔ کارکنوں نے دیکھا کہ پب میں شہر کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موجود تھے۔ بی وینکٹ نے پب کے منیجر سے اوقات کے بارے میں دریافت کیا جس پر بتایا گیا کہ رات 12 بجے بند کردیا جاتا ہے۔ بی وینکٹ نے کہا کہ 3 بجے تک پھر کس طرح کسٹمرس کو سرویس دی جارہی ہے۔ انہوں نے پب مالکین پر برہمی کا اظہار کیا کارکنوں نے نعرہ بازی کی۔ بی وینکٹ نے کہا کہ جوبلی ہلز میں پبس کے نتیجہ میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں جوبلی ہلز میں کمسن لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی واقعہ کے باوجود پولیس شمس آباد نے پبس کو رات بھر کھلا رکھنے کی اجازت دے رہی ہے۔ کمسن نوجوان شراب نوشی کے بعد جرائم میں ملوث ہورہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ نے کہا کہ پولیس کی ملی بھگت سے رات بھر شراب سربراہ کی جارہی ہے۔ انہوں نے سماج میں جرائم کی روک تھام کیلئے پب کلچر کے خاتمہ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ حیدرآباد میں ان تمام پبس کے خلاف کارروائی کی جائے جو مقررہ اوقات کے بعد بھی کسٹمرس کو سرویس فراہم کررہے ہیں۔ر