ظہر کی نماز کی ادائیگی کیلئے جانے والے نوجوان گرفتار
شمس آباد ۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) شمس آباد میونسپل میں گرین اوینو کالونی میں مسجد خواجہ محمود کو شہید کرنے کے خلاف آج شمس آباد میں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے ریالی نکالی گئی۔ ریالی کا آغاز ضلع پریشد ہائی اسکول گراونڈ سے ہوا اور بس اسٹاپ چوراہے پر پلے کارڈس تھامے ہوئے ریالی پہنچی ۔ چوراہے پر احتجاج کرنے کے بعد ریالی شمس آباد تحصیلدار آفس پہنچی اور وہاں احتجاج کرنے کے بعد تحصیلدار کو یادداشت پیش کی جس میں مسجد کو شہید کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریالی کے موقع پر سائبرآباد پولیس کے تمام پولیس اسٹیشن کے پولیس عہدیدار موجود تھے۔ جناب مشتاق ملک تحریک مسلم شبان نے بھی شرکت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ آباد مسجد کو شہید کرنے کا واقعہ بڑا ہی افسوسناک ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کے آٹھ سالہ دور میں مساجد، عیدگاہوں، عاشور خانوں ، قبرستانوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اللہ کے گھر کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر حکومت کے اخراجات کے ذریعہ تعمیر کروایا جائے۔ مسجد خواجہ محمود کیلئے تقریباً ایک کروڑ کی لاگت ہوئی تھی حکومت نے اسے زمین دوز کردیا ۔ محمد جہانگیر خاں کونسلر نے کہا کہ ضلع کلکٹر کی ہدایت پر رات کے تین بجے مسجد کو شہید کردیا گیا۔ اس کے خلاف ہم نے آج احتجاجی ریالی نکالی جس میں سینکڑوں مسلمانوں نے حصہ لیا۔ شمس آباد کی گنگا جمنی تہذیب کو چند افراد منصوبہ بند طریقہ سے مکدر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر سرکاری اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے ہوٹلیں، پلاٹس بناکر فروخت کئے جارہے ہیں لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے صرف مسجد کو نشانہ بنانا بے حد شرم کی بات ہے۔ محمد تاج بابا ٹی آر ایس لیڈر نے کہا کہ مسجد خواجہ محمود کی دوبارہ تعمیر تک مسلمانوں کی جدوجہد جاری رہے گی اور دوبارہ مسجد تعمیر نہ کرنے یا اجازت نہ دینے پر تمام مسلم ٹی آر ایس قائدین پارٹی سے استعفی دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ ہمیں اللہ کا گھر پیارا ہے پہلے مسجد بعد میں پارٹی کو اہمیت دی جائے گی۔ ریالی کے دوران ایک برقعہ پوش خاتون نے بھی پلے کارڈ تھامے احتجاج میں شرکت کی۔ آج فجر کی نماز مسجد کے مقام پر ہی چند نوجوانوں نے باجماعت ادا کی اور دوبارہ ظہر کے موقع پر وہاں نماز کی ادائیگی سے پولیس نے انہیں روکا اور انہیں گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔