روس، چین اور پاکستان کے ساتھ نریندر مودی کی شرکت کی تصدیق، پوٹن اورژی جن پنگ کی ملاقات کا امکان
بیجنگ : شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ازبکستان کے شہر سمر قند میں 15 ستمبر سے شروع ہو گا، پاکستان، ہندوستان، چین، روس اور دیگر رکن ممالک کے سر براہ شریک ہوں گے۔روس کا کہنا ہے کہ اجلاس کے موقع پر صدر پیوٹن اور چین کے صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے تاہم ابھی تک چین کی جانب سے صدر کے سفری منصوبے کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف بھی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے خطاب کریں گے جبکہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی بھی اجلاس میں شر کت کریں گے۔واضح رہے کہ کورونا وبا کہ بعد گزشتہ دو سال میں چینی صدر کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا جبکہ روسی صدر کے ساتھ امکانی ملاقات بھی کورونا کے بعد چین سے باہر کسی سربراہ مملکت کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات ہوگی۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی ازبکستان میں علاقائی سمٹ میں شرکت کریں گے، جس میں روس کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بالمشافہ مذاکرات ہوں گے۔ میڈیا کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم میں چین، روس، 4 وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغستان، ازبکستان اور تاجکستان کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان بھی شامل ہیں، جس کا انعقاد سمرقند میں 15 اور 16 ستمبر کو ہوگا۔چین میں روس کے سفیر نے بتایا کہ سمٹ میں ولادیمیر پیوٹن اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوگی، کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے چینی رہنما کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا۔رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس ملاقات کی تصدیق نہیں کی، معمول کی پریس بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ اس حوالے سے فراہم کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے اپنے جاری بیان میں یہ نہیں بتایا کہ نریندر مودی کی ولادیمیر پیوٹن، شی جن پنگ یا وزیر اعظم شہباز شریف سے دوطرفہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں۔ ہندوستان زیادہ تر اسلحہ روس سے لیتا ہے، اس نے چین کی طرح ماسکو کی جانب سے یوکرین پر جنگ کی مذمت نہیں کی اور روسی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے۔چین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات 2020 میں متنازعہ ہمالیہ سرحد پر لڑائی کے بعد سے خراب ہیں، جس میں 20 ہنددستانی اور 4 چینی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تھی، نریندر مودی اور شی جن پنگ نے 2019 کے بعد سے دوطرفہ بات چیت نہیں کی ہے۔ ہندوستان نام نہاد‘کواڈ’میں بھی امریکا، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ شامل ہے، جسے چین کے خلاف ایک مضبوط گروپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔