اہم مقامات پر ہجوم، جاترا کیلئے شہر کی بسوں کا استعمال، کیاب اور دیگر سرویسیس نے اضافی چارجس وصول کئے
حیدرآباد۔/20 فروری، ( سیاست نیوز) آر ٹی سی کی جانب سے تہواروں اور جاتراؤں کے موقع پر خصوصی بسوں کا انتظام کیا جاتا ہے لیکن متبادل انتظامات میں کمی کے نتیجہ میں عوام کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ تلنگانہ میں قبائیلی طبقات کی میڈارم جاترا کیلئے تلنگانہ آر ٹی سی نے 6 ہزار خصوصی بسوں کا انتظام کیا ہے جس کے نتیجہ میں گریٹر حیدرآباد کے حدود میں آر ٹی سی بسوں کی کمی کے نتیجہ میں مسافرین کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کے اہم مراکز جہاں سے سرکاری اور خانگی ملازمین اور طلبہ اپنے مقامات کو روانہ ہوتے ہیں وہاں صبح سے بسوں کی کمی دیکھی گئی کیونکہ سٹی سرویسیس کی بسوں کو بھی میڈارم جاترا کے یاتریوں کیلئے مخصوص کردیا گیا۔ ایل بی نگر، حیات نگر، اپل، الوال، مہدی پٹنم، چارمینار، افضل گنج، کوٹھی، خیریت آباد اور کوکٹ پلی جیسے علاقوں میں عوام کو بسوں کے انتظار میں دیکھا گیا۔ مسافرین نے شکایت کی کہ انہیں مقررہ وقت سے تقریباً دو گھنٹوں تک اپنی منزل کو جانے والی بسوں کا انتظار کرنا پڑا۔ بسوں میں مسافرین کی تعداد بھی عام دنوں سے زیادہ دیکھی گئی۔ عوام کا کہنا تھا کہ سٹی سرویسیس کی بسوں کو میڈارم جاترا کیلئے مختص کرنے کے بجائے متبادل انتظامات کرنے چاہیئے تھے۔ آر ٹی سی بسوں کی کمی کا فائدہ اٹھاکر اوبیر، اولا سرویسیس کے علاوہ ریاپیڈو سرویس نے اپنے چارجس میں 20 فیصد کا اضافہ کردیا۔ شہر میں چلنے والے آٹوز نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاکر مسافرین سے زائد چارجس وصول کئے ہیں۔ میڈارم جاترا کے یاتریوں کی سہولت کیلئے آر ٹی سی نے 6000 خصوصی بسوں کا انتظام کیا ہے۔ آر ٹی سی کے حکام مسافرین کی تکالیف کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ دفاتر، اسکولس اور کالجس کو روانگی میں تاخیر سے ناراض مسافرین نے سوشیل میڈیا پر بس اسٹاپس پر موجود ہجوم کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل کئے۔ شام کے اوقات میں دفاتر سے واپسی کے سلسلہ میں بھی عوام بالخصوص سرکاری ملازمین کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کی جانب سے کم از کم آئندہ دو دنوں میں متبادل انتظامات کی توقع کی جارہی ہے۔1