شہید فوجی شاکر حسین کا خاندان 600 دن سے حکومت کی امداد کا منتظر

   

تلنگانہ حکومت کا اقدام اپنوں پر ستم غیروں پر رحم کے مترادف ، شہیدوں سے امتیاز نامناسب

حیدرآباد ۔ 9 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونیوالے فوجیوں کا احترام کرنے کے معاملے میں چیف منسٹر تلنگانہ

سارے ملک میں سرفہرست ہے ۔ ہر چیف منسٹر اپنے اپنے ریاستوں کے شہید فوجیوں کے ارکان خاندان کی مدد کرتے ہیں مگر چیف منسٹر تلنگانہ نے ہند ۔ چین سرحد پر دونوں ممالک کی فوجیوں کے درمیان لڑائی میں ہلاک ہونے والے تلنگانہ کے سپوت کرنل سنتوش بابو کے ارکان خاندان کو 5 کروڑ روپئے کی امداد ، انہیں جوبلی ہلز میں قیمتی اراضی اور ان کی شریک حیات کو ڈپٹی کلکٹر رینک کی ملازمت فراہم کی ۔ ساتھ ہی دوسرے چھتیس گڑھ اور پنجاب کے شہید فوجیوں کو بھی تلنگانہ کے سرکاری خزانہ سے مالی امداد دی گئی ۔ ساتھ ہی تین زرعی بلز کی مخالفت میں احتجاج کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے 600 کسانوں کے ارکان خاندان کو بھی ریاستی خزانہ سے مالی امداد دی گئی ۔ مگر متحدہ ضلع عادل آباد ، کاغذ نگر کے ایک فوجی شاکر حسین جموں و کشمیر میں پہاڑ کے تودے گرنے کے نتیجے میں شہید ہوگئے اور ان کی ہلاکت کے 600 دن مکمل ہونے کے باوجود تلنگانہ حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے سی آر نے ان کے ارکان خاندان سے نا کاغذ نگر پہونچ کر ملاقات کی اور نہ ہی انہیں پرگتی بھون طلب کیا گیا ہے ۔ حالانکہ چیف منسٹر کی دختر موجودہ رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے اس شہید فوجی کے ارکان خاندان کو دہلی سے کشمیر جانے میں مدد کی ۔ چیف منسٹر سے ملاقات کرانے کا تیقن دیا ۔ مگر آج تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔ کاغذ نگر کے نمائندہ سیاست عبدالجمیل نے وزیر جنگلات اندرا کرن ریڈی کو کاغذ نگر کے دورے پر شہید فوجی کے ارکان خاندان سے ملاقات کرایا ۔ انہوں نے بھی حکومت سے مالی امداد دلانے کا تیقن دیا وہ بھی وفا نہیں ہوپایا ۔ مقامی ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی کونیر کونپا بھی شہید فوجی کے ارکان خاندان کو چیف منسٹر سے ملانے اور 25 لاکھ روپئے کی امداد دلانے کا وعدہ کیا وہ بھی پورا نہیں ہوا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں نے شہید خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا مگر کسی نے کچھ نہیں کیا ۔ تلنگانہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دوسرے شہیدوں کی طرح شاکر حسین کا احترام کریں ان کے ارکان خاندان کو مالی امداد دیں ۔ بیوہ یا خاندان کے کسی فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کریں اور عادل آباد ہیڈ کوارٹر یا حیدرآباد میں مکان کی تعمیر کے لیے اراضی فراہم کریں ۔ تلنگانہ حکومت کی شاکر حسین شہید فوجی کو نظر انداز کرنا اپنوں پر ستم غیروں پر رحم کرنے کے مترادف ہوگا ۔ چیف منسٹر کے سی آر سب کو بانٹ رہے ہیں اور اپنوں کو نظر انداز کررہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام شہیدوں کا مساوی احترام کریں ۔ مالی امداد اور دوسرے فائدوں کی فراہمی میں کوئی امتیاز نہ کریں ۔۔ ن