شیوسینا6 منحرف ایم پیز کیخلاف اسپیکر برلا سے رجوع

   

انحراف شیوسینا کے 18جون والے پارٹی وہپ کی کھلی خلاف ورزی، منحرفین کو نااہل قرار دیا جائے: اُدھو ٹھاکرے

ممبئی، 24 جون (یو این آئی) شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے ) کو درپیش سیاسی بحران آج مزید گہرا ہو گیا، جب پارٹی قیادت نے اپنے چھ لوک سبھا ارکان کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شمولیت کے خلاف قانونی اور پارلیمانی لڑائی تیز کر دی۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنماؤں کے ایک وفد نے ، جس کی قیادت رکن پارلیمان اروند ساونت اور انیل دیسائی کر رہے تھے ، نئی دہلی پہنچ کر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی، تاکہ منحرف ارکان کے علیحدہ پارلیمانی گروپ کی حیثیت کو چیلنج کیا جا سکے ۔ یہ پیش رفت ایکناتھ شندے گروپ کے “آپریشن ٹائیگر” کی کامیابی کے بعد سامنے آئی ہے ، جس کے تحت شیو سینا (یو بی ٹی) کے نو میں سے چھ لوک سبھا ارکان نے باضابطہ طور پر شندے کی زیر قیادت شیو سینا میں شمولیت اختیار کر لی، جس سے پارلیمنٹ میں پارٹی کی عددی طاقت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ۔ لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کے دوران شیو سینا (یو بی ٹی) وفد کی جانب سے منحرف ارکان کو علیحدہ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم نہ کرنے کی باضابطہ درخواست پیش کیے جانے کی توقع ہے ۔ ادھو ٹھاکرے گروپ کا موقف ہے کہ یہ انحراف 18 جون کو جاری کردہ پارٹی وہپ کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ منحرف ارکان بھارتی آئین کی دسویں جدول یعنی انسداد انحراف قانون کے تحت نااہلی کے مستحق ہیں، اگرچہ باغی گروپ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے ۔ سنجے جادھو، بھاؤ صاحب واکچورے ، سنجے دیشمکھ، ناگیش پاٹل آشتیکر، اوم راجے نمبالکر اور سنجے دینا پاٹل نے 22 جون کو نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی موجودگی میں باضابطہ طور پر شندے دھڑے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ شندے کی قیادت والی شیو سینا کا دعویٰ ہے کہ یہ انضمام تمام قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا گیا ہے ۔ ان ارکان کے انحراف کے بعد ادھو ٹھاکرے دھڑے کے پاس لوک سبھا میں صرف تین ارکان باقی رہ گئے ہیں۔ ایسے میں لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کو ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا کی جانب سے اپنی پارلیمانی شناخت برقرار رکھنے اور اجتماعی انحراف کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ مہاراشٹرا کے سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے ۔
کیونکہ لوک سبھا اسپیکر کا فیصلہ نہ صرف شیو سینا کی سیاسی وراثت بلکہ پارٹی کی آئینی حیثیت سے متعلق جاری قانونی تنازع میں بھی ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے ۔