ایڈیٹر پورکائستھ کے علاوہ اڈمنسٹریٹر چکرورتی بھی گرفتار۔ متعدد جرنلسٹوں کے پاس سے دستاویزات، موبائل فون ، لیاپ ٹاپ ضبط
نئی دہلی : دہلی پولیس نے منگل کے روز میڈیا تنظیم ’نیوز کلک‘سے وابستہ متعدد سینئر صحافیوں کے گھروں پر چھاپہ مارا اور ان کے موبائل فون اور لیاپ ٹاپ ضبط کرکے اپنے ساتھ لے گئی۔پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی معلومات شیئر نہیں کی ہیں لیکن خود متعدد سینئر صحافیوں نے چھاپے سے متعلق معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے دی ہیں۔سینئر صحافی بھاشا سنگھ نے خود ٹویٹ کیا ہے کہ دہلی پولیس ان کا موبائل فون اپنے ساتھ لے گئی۔اپنے موبائل فون کے ضبط ہونے کی معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھاکہ دہلی پولیس نے میرا فون ضبط کر لیا، اس فون سے یہ میرا آخری ٹویٹ ہے ۔اس دوران ابھیسار شرما نے ٹویٹ کیا کہ دہلی پولیس میرے گھر سے میرا لیاپ ٹاپ اور فون لے جا رہی ہے ۔نیوز کلک کے دو ملازمین ایڈیٹر پرابیر پورکائستھ اور اڈمنسٹریٹر امیت چکرورتی کو دہلی پولیس نے سخت قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کرلیا۔ یہ گرفتاری اُس بڑی کارروائی کا حصہ ہے جس کے تحت تقریباً 50 جرنلسٹوں اور مبصرین کے مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ان کا تعلق نیوز کلک سے ہے۔ دہلی پولیس نے صبح سے کارروائی شروع کی اور مجموعی طور پر 37 مرد اور 9 خاتون جرنلسٹوں کے خلاف چھاپے مارے گئے اور اُن سے ایف آئی آر نمبر 224/2023 کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کی گئی۔ مرد صحافیوں کو دہلی پولیس اسپیشل سل کے دفتر لیجایا گیا جبکہ خواتین سے اُن کے گھروں پر پوچھ تاچھ کی گئی۔ پولیس نے جانچ کے لئے بعض دستاویزات اور الیکٹرانک آلات جیسے لیاپ ٹاپ اور موبائیل فون وغیرہ ضبط کرلئے۔ رات 8.30 تک وہ تمام صحافیوں کو جنھیں اسپیشل سل کے دفتر کو لیجایا گیا تھا، رہا کردیا گیا ماسوائے پورکائست اور امیت چکرورتی ۔ چکرورتی ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں اور وہ جسمانی طور پر معذور شخص ہیں۔ نیوز کلک کے خلاف کیس 17 اگست 2023 ء کو درج کیا گیا تھا۔ اس میں یو اے پی اے کے مختلف دفعات شامل کئے گئے ہیں۔ ایف آئی آر کا تعلق ظاہر طور پر نیویارک ٹائمز کی اگسٹ میں شائع رپورٹ سے ہے۔ دی وائر نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ کس طرح بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے لوک سبھا میں اِس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کانگریس قائدین اور نیوز کلک کو چین سے فنڈس حاصل ہوئے تاکہ مخالف ہندوستان ماحول پیدا کیا جاسکے۔ بہرحال آج کی کارروائی 1975 ء میں اخبار نویسوں کے خلاف ایمرجنسی کے اقدامات کی طرح معلوم ہوئی۔ آج کے متاثرین میں ویڈیو جرنلسٹ ابھیسار شرما، سینئر جرنلسٹ بھاشا سنگھ ، ارملیش اور پران جوائے گوہا، نیوز کلک ایڈیٹر پور کائستھ اور رائٹر گیتا ہری ہرن و دیگر شامل ہیں۔
میڈیا کی زبان بندی کی کوشش ایڈیٹرس گلڈ کا ردعمل
نئی دہلی : ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے دہلی میں آج سخت انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت جرنلسٹوں کے گھروں پر چھاپے اور تلاشی کارروائی کے بعد اپنے ردعمل میں کہاکہ جمہوریت میں مصرحہ طریقہ کار اختیار کیجئے اور ظالمانہ فوجداری قوانین کو صحافت کو دھمکانے کے ہتھیار نہ بنائیں۔ ایڈیٹرس گلڈ نے کہاکہ اُنھیں آج صبح کی پولیس کارروائی پر سخت تشویش ہے کیوں کہ پولیس نے چھاپوں کے علاوہ کئی جرنلسٹوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔