صدر پی سی سی تلنگانہ ریونت ریڈی کو آر ایس ایس کا ایجنٹ قرار دینا مضحکہ خیز

   

اظہرالدین کو ٹکٹ دینے سے ناراض افراد کے بے بنیاد الزامات، مفادات کی عدم تکمیل پر تنقیدیں

حیدرآباد۔29۔اکٹوبر(سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کو آر ایس ایس کا ایجنٹ اور بی جے پی کے نظریات پر گامزن قرار دیئے جانے کا مختلف گوشوں سے مضحکہ اڑایا جانے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ جو لوگ ریونت ریڈی کو آر ایس ایس کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں وہ دراصل اپنے مفادات کی عدم تکمیل کے سبب انہیں نشانہ بناتے ہوئے پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ جوبلی ہلزحلقہ اسمبلی سے اظہر الدین کو ٹکٹ دیئے جانے سے ناراض افراد اپنی خفت مٹانے کے لئے بے بنیاد الزامات کے ذریعہ اے ریونت ریڈی کی مقبولیت کو گھٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ریونت ریڈی آر ایس ایس کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس طرح کے الزامات عائد کرنے والوں کے سلسلہ میں کانگریس کے قائدین کے علاوہ شہری سیاست پر نظر رکھنے والوں کی جانب سے استفسار کیا جا رہاہے کہ جو لوگ یہ الزام عائد کر رہے ہیں وہ دراصل بے شرمی اور اپنی سیاسی غلامی کے طوق کے سبب ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ اظہر الدین کو جوبلی ہلز سے امیدوار بنائے جانے پر اعتراض کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں اور اس حقیقت سے آگہی حاصل کریں کہ وہ جس شخص کو امیدوار بنانے کی حمایت کر رہے تھے وہ اپنا سیاسی مستقبل کہاں تلاش کر رہے ہیں۔ صدرپردیش کانگریس پر الزامات عائد کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کانگریسی قائدین نے کہا کہ 30 سال سے زائد عرصہ سے کانگریس کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کو غیر کارکرد کس کے ایماء پر رکھا گیا اور اب جبکہ کانگریس کو استحکام حاصل ہورہا ہے تو کس کے ایماء پر کانگریس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے اس کا عوام کو اچھی طرح سے اندازہ ہوچکا ہے۔ کانگریس میں مجلس اور بی آر ایس کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل کو غلامی کے ذریعہ تابناک بنانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد اب چہرے پر پڑے نقاب کو اتارتے ہوئے مجلس میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لئے عائد کئے جانے والے الزامات کو کانگریس کے اقلیتی قائدین نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے اپنے کئی برسوں پر محیط دور میں ایسے کئی بہروپیوں سے نمٹ چکی ہے اور اب جبکہ کانگریس نے مجلس سے کسی بھی طرح کے اتحاد سے صریح انکار کردیا ہے تو کانگریس میں موجود مجلس کے ایجنٹ اپنی اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ کانگریس میں سیکولر نظریات کے حامل افراد کو ہی غلبہ حاصل ہوگا اور کانگریس ان طاقتوں کے ساتھ ہی اتحاد کرے گی جو آر ایس ایس کے مقابلہ کے لئے راہول گاندھی کے شانہ بشانہ چلنے کے لئے تیار ہیںاور ملک میں بی جے پی اور تلنگانہ میں بی آر ایس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی جدوجہد کے لئے قربانی دینے تیار ہیں۔