تحریک عدم اعتماد، کانگریس کی جانب سے انحراف کا خطرہ برقرار
حیدرآباد۔/18 فروری، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی میں شمولیت کے فوری بعد بی آر ایس نے وقارآباد ضلع پریشد چیرپرسن پی سنیتا مہیندر ریڈی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے۔ 12 زیڈ پی ٹی سی ارکان نے صدرنشین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس ایڈیشنل کلکٹر لنگیا نائیک کے حوالے کی ہے۔ سنیتا مہیندر ریڈی نے دو دن قبل ہی کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی جس کے فوری بعد بی آر ایس نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے۔ ضلع پریشد میں بی آر ایس کو اکثریت حاصل ہے۔ تانڈور کے سابق ارکان اسمبلی روہت ریڈی اور ایم آنند کی قیادت میں زیڈ پی ٹی سی ارکان نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تحریک پر ضلع پریشد کے وائس چیرمین بی وجئے کمار کے علاوہ کے ناگی ریڈی، کے مہیپال، ایم میگھا مالا، کے سجاتا، کے جیماں، ناگارانی، ہری پریہ، منجولا، پرمادنی، پی مدھوکراور کے رام داس کے دستخط ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی پیشکشی کے 15دنوں میں عہدیداروں کی جانب سے نوٹس بھی جاری کی جاتی ہے۔ بی آر ایس کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر عہدیداروں کے رویہ پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ وقارآباد ضلع پریشد میں بی آر ایس کے 14 ارکان ہیں جبکہ کانگریس ارکان کی تعداد محض 4 ہے۔ ضلع پریشد کے نائب صدرنشین بی وجئے کمار نے سنیتا مہیندر ریڈی سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ استعفیٰ کے بغیر کانگریس میں شمولیت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہیندر ریڈی نے جس طرح استعفی کے بعد کانگریس میں شمولیت اختیار کی صدرنشین کو بھی استعفیٰ دینا چاہیئے۔ 1