کابل ۔ طالبان نے طالبات کو افغان دارالحکومت چھوڑ کر قازقستان اور قطر میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے ، یہ بات ایک باخبر ذریعہ نے اسپوٹنک کو دی۔ ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ طلبہ وطالبات دونوں ہی کابل چھوڑنے کا ارادہ کر رہے تھے لیکن صرف طلبہ کو ہی تعلیم کے لیے افغانستان سے باہر جانے کی اجازت ہے ۔ ستمبر 2021 میں ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور امریکی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان کی قیادت میں ایک عبوری افغان حکومت برسراقتدار آئی تھی۔ طالبان نے افغان خواتین کے گھروں سے باہر کام کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اسکولوں میں صنفی بنیاد پر علیحدہ کلاس متعارف کرایا گیاہے ۔ لڑکیوں کو اب چھٹی جماعت سے آگے کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے ۔ مزید برآں، طالبان نے عوامی مقامات پر تمام خواتین کو اپنے چہرے ڈھانپنے پر مجبور کیا ہے اور خواتین کو مردوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور پارکوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔واضح رہے کہ افغان خواتین 15 اگست (جس دن طالبان نے ایک سال قبل کابل پر قبضہ کیا تھا) کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں تھیں اور انہوں نے عدم مساوات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی آزادی اور تعلیم اور کام کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع نے اسپوٹنک کو بتایا کہ طالبان نے 13 اگست کو کابل میں خواتین مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے ۔